خطبات محمود (جلد 25) — Page 751
خطبات محمود 751 $1944 مگر جس فیصلہ کا اعلان آج سے چودہ سو سال قبل خود آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرما چکے ہیں یہ احراری آج اسے رد کر رہے ہیں اور پھر اِس طرزِ عمل کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ محبت کا دعوی بھی کرتے ہیں۔اور نادان اتنا نہیں سمجھتے کہ اگر وہ شخص آپ کو رسول اللہ مانتا تو پھر سکھ کیوں رہتا مسلمان کیوں نہ ہو جاتا۔اُس کا حق یہی تھا کہ " حضرت محمد صاحب" کہہ دیتا اور مسلمانوں کو اُس کا ممنون ہونا چاہیے تھا کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نام احترام کے ساتھ لیتا ہے۔مگر احراریوں نے شور مچادیا اور گالیاں دینے لگے حالانکہ خود مسلمانوں کے لٹریچر میں کئی جگہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر صرف محمد اور احمد کہہ کر کیا گیا ہے۔گو یہ محبت کی وجہ سے ہی ہوتا ہے۔یہ ایک ضمنی بات تھی اور یہ مثال میں نے اس لیے دی ہے کہ جہاں محبت کا تعلق ہو وہاں حکم تلاش نہیں کیے جاتے بلکہ ہدایت اور منشاء کو تلاش کر کے پیچھے چلنا ضروری ہوتا ہے۔احادیث میں اس کی ایک اور مثال بھی ہے۔ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم خطبہ ارشاد فرمارہے تھے۔بعض لوگ کناروں پر دیواروں کے ساتھ ساتھ کھڑے تھے۔اس لیے پیچھے کے لوگ آواز کو سن نہ سکتے تھے۔آپ نے فرمایا بیٹھ جاؤ۔جب آپ کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تو حضرت عبد اللہ بن مسعود گلی میں آرہے تھے وہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہے کے یہ الفاظ کہ "بیٹھ جاؤ" آپ کے کان میں پڑے اور آپ وہیں بیٹھ گئے اور پھر جس طرح بچے گھسٹ گھسٹ کر چلتے ہیں گھسٹنے لگے اور اسی حالت میں خطبہ گاہ کی طرف آنے لگے۔پیچھے سے ایک اور صحابی آئے اور اُنہوں نے کہا عبد اللہ ! یہ کیا بے ہودہ حرکت کر رہے ہو ؟ تم تندرست اور توانا آدمی ہو یہ کیا حرکت کر رہے ہو ؟ حضرت عبد اللہ نے کہا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ ارشاد میرے کان میں پڑا تھا کہ بیٹھ جاؤ اور میں نے سوچا کہ اگر ہے خطبہ گاہ تک پہنچنے سے قبل میری موت واقع ہو جائے تو میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس حکم پر عمل کیے بغیر ہی مر جاؤں گا۔اس لیے میں نے ضروری سمجھا کہ فوراً ہی اِس حکم پر عمل کرلوں۔حالانکہ یہ صاف بات ہے کہ یہ حکم حضرت عبد اللہ کے لیے نہ تھا بلکہ اُن لوگوں کے لیے تھا جو کناروں پر کھڑے تھے۔مگر پھر بھی جو نہی آپ کے یہ الفاظ کہ بیٹھ جاؤ"