خطبات محمود (جلد 25) — Page 749
خطبات محمود 749 $1944 مت لگاؤ۔اب جہاں تک عمر کا سوال ہے یہ ایک عام قاعدہ ہے کہ بڑی عمر کے لوگ چھوٹی عمر کے آدمیوں سے بات کرتے وقت کبھی اپنی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں اور کبھی دوسرے کی داڑھی کو۔اور گو وہ شخص عمر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا تھا مگر صحابہ کے نزدیک تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بزرگی کے مقابل میں اس کی کوئی حیثیت ہی نہ تھی۔اس کہانی صحابی نے جب اس طرح اُس کا ہاتھ پیچھے بنا دیا تو اس نے نظر او پر اٹھا کر اس صحابی کی طرف ہے دیکھا۔اُنہوں نے خود پہنا ہوا تھا جس سے چہرہ ڈھکا ہوا تھا صرف آنکھیں ننگی تھیں۔اس لیے اُسے پہچاننے میں کچھ دیر لگی مگر اُس نے پہچان لیا اور کہا کہ کون ؟ کیا تم فلاں کے بیٹے ہو ؟ اس صحابی نے کہا ہاں۔اُس نے کہا تمہیں شرم نہیں آتی کہ مجھ سے ایسا سلوک کرتے ہو ؟ تمہارے خاندان پر میرے یہ یہ احسانات ہیں پھر تم نے یہ حرکت کیسے کی؟ واقع میں وہ محسن طبیعت کا من آدمی تھا، سب کی خدمت کیا کرتا تھا اور قریباً سب اہل مکہ اُس کے زیرِ احسان تھے۔عربوں بالخصوص مسلمانوں میں احسان کی بڑی قدر تھی اس لیے گو صحابہ کے دل یہ دیکھ کر کہ وہ بار بار آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا تا تھا جل رہے تھے مگر اُس کے احسانات کی وجہ سے خاموش تھے اور وہ پھر بڑے جوش سے باتیں کرتا ہوا آنحضرت صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگا دیتا اور کہتا کہ دیکھو! میں عرب کا باپ ہوں میری یہ بات مان لو اِس میں آپ لوگوں کا فائدہ ہے۔وہ اِس طرح باتیں کر رہا تھا کہ جس طرح بڑی عمر کے لوگ چھوٹی عمر والوں سے باتیں کیا کرتے ہیں اور صحابہ میں سے کسی کو جرات نہ ہوتی تھی ہیں کہ اُسے روکیں کیونکہ قریباً سب مکہ والے اُس کے زیر احسان تھے۔اُس نے دو تین بار جو اِس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگایا تو صحابہ میں سے ایک آگے بڑھا اور اُس کے ہاتھ کو پیچھے بنا کر کہا کہ اپنا ہاتھ پیچھے بنا۔تو کون ہے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی ریش مبارک کو ہاتھ لگاتا ہے۔اُس نے اس صحابی کی طرف دیکھا اور پھر پہچان کر کہا کہ کون ہے؟ ابو بکر ابو قحافہ کا بیٹا؟ اور پھر کہا کہ بے شک تمہارا حق مجھے روکنے کا ہے۔تمہارے خاندان پر بے شک میرا کوئی احسان نہیں 4 حضرت ابو بکر کی طبیعت شر میلی تھی مگر آپ سمجھ گئے کہ اُس شخص کو روکنے کی جرآت اب کوئی صحابی نہیں کر سکتا۔میں ہی ہوں