خطبات محمود (جلد 25) — Page 616
خطبات محمود 616 $1944 قبیلہ کے لیے بھیجنے پڑے۔1 حالانکہ اُس وقت صرف ہزاروں کی جماعت تھی اور محدود سلسلہ تھا۔مگر ایک قبیلہ کے لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چالیس مبلغ بھیجے۔ایک دوسرے موقع پر آپ نے ایک جگہ ستر مبلغ بیجے۔2 اسی طرح ممکن ہے ہمیں بھی زیادہ ہے مبلغین بھیجنے کی ضرورت پڑے۔ممکن ہے روس میں ہماری تبلیغ سننے کا جوش پیدا ہو جائے یا امریکہ میں جوش پیدا ہو جائے یا جرمنی میں جوش پیدا ہو جائے یا سپین میں جوش پیدا ہو جائے۔اگر ہم وقت پر ان کے جوشوں کو نہیں سنبھالیں گے تو وہ ٹھنڈے ہو جائیں گے۔اور اگر سنبھالیں گے تو کسے معلوم ہے کہ دو ہزار مبلغوں تک کی ضرورت یک دم پیش نہ آجائے۔اگر ایسا ہوا تو ہمیں ان کے اخراجات کے لیے بہت سے روپیہ کی ضرورت پڑے گی۔اگر ہم لٹریچر وغیر ہ ملا کر ایک مبلغ کا خرچ تین ہزار روپیہ اوسطا لگالیں تو ہمیں دو ہزار مبلغین کے لیے ہے ساٹھ لاکھ روپیہ کی ضرورت پڑے گی۔پس جماعت کو اپنے اندر بیداری پیدا کرنا چاہیے اور آنے والی ضرورت کو آج ہی ہے محسوس کر کے اُس کے لیے سامان مہیا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔دوسری طرف تبلیغ پر بھی ہیں ہمیں زور دینے کی ضرورت ہے۔کیونکہ اس وقت ہماری تعداد بہت کم ہے اور جتنا وسیع ہمارا کام ہے اتنی بنیاد نہیں۔عمارت بنانے میں سب سے زیادہ جس چیز کا خیال رکھا جاتا ہے وہ بنیاد ہے۔بنیاد جتنی مضبوط ہوگی اور اس میں جتنی روڑی کوئی جائے گی عمارت بھی اتنی ہی مضبوط ہے ہو گی اور بلند جاسکے گی۔دین کی جو عمارت بنے گی اُس میں ہماری حیثیت روڑی کی ہے اور ہمارا ہے مقام روڑی کا ہے۔اس لیے ہماری جتنی کوٹائی ہو گی ہم پر بنے والی عمارت اتنی ہی مضبوط ہو گی۔میں اس منارۃ المسیح کی بنیاد 30 فٹ کھود کر اس میں کو ٹائی کی گئی تھی۔میں اس وقت بچہ تھا۔میں تمہیں اِس قدر گہرے گڑھے کو ایک بے ہودہ کام سمجھتا تھا اور حیران ہو تا تھا کہ عمارت کے لیے اتے گہرا گڑھا کھودنے کی کیا ضرورت ہے۔عمارت تو آپ اپنی طاقت سے کھڑی ہو گی۔مگر جب بڑے ہو کر عمارت کے فن سے کچھ واقف ہوا تو معلوم ہوا کہ زمین ہی عمارت کا بوجھ اٹھاتی ہے اور اس کی بنیاد کو جتنا گہر ا کھودا جائے گا اور جتنی مضبوط کو ٹائی کی جائے گی اتنی ہی عمارت بھی مضبوط بنے گی۔اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ بڑی سے بڑی عمارت کا قیمتی حصہ وہ روڑی ہے