خطبات محمود (جلد 25) — Page 617
خطبات محمود 617 $1944 ہوتی ہے جو اس کی بنیادوں میں کوئی جاتی ہے۔صحابہ کی روڑی اور اس کی کوٹائی اتنی مضبوط تھی کہ تیرہ سو سال تک کام دیتی رہی اور اس پر مضبوط عمارت قائم ہوئی۔پس جتنی زیادہ گہری بنیاد ہو گی اور اس میں جتنی زیادہ روڑی کوئی جائے گی اتنی ہی وہ عمارت مضبوط بنے گی۔لیکن امینی اگر اس عمارت کی بنیاد کے لیے دس ہزار بورے روڑی کی ضرورت ہو اور ہم اس میں ڈالیں ہے ایک ہزار بورا۔تو عمارت کی بنیاد کبھی مضبوط نہیں ہو گی۔جب تک کہ اُس کے لیے ہم دس ہزار بورے مہیانہ کریں۔اس زمانہ میں ہم نے اسلام کی عمارت کے لیے اس کی ضرورت کے مطابق روڑی بھی مہیا نہیں کی۔جس کا سب سے پہلے مہیا کرنا ضروری ہے۔اگر ہم نے اس روڑی کو مہیانہ کیا تو ہمارا کامیابی حاصل کرنے کا زمانہ پانچ دس گنا اور لمبا ہو جائے گا اور اُس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہوں گے جب تک زیادہ کو ٹائی نہ ہولے اور مضبوط بنیاد کا کام دینے والی بنیاد تیار نہ ہو۔پس ایک تو اس بات کی ضرورت ہے کہ جماعت پورے زور کے ساتھ تبلیغ کی طرف توجہ میں کرے اور اپنی تعداد کو بڑھائے اور دوسرے اِس بات کی ضرورت ہے کہ وقف جائیداد کی تحریک میں زیادہ سے زیادہ آدمی حصہ لیں اور وقف کے فنڈ کو بڑھائیں۔تیسرے اس بات کی ہے ضرورت ہے کہ عام چندوں کو باقاعدہ شرح کے ساتھ ادا کرنے کا انتظام کیا جائے اور بیت المال اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے پوری کوشش کرے کہ کوئی شخص بھی پوری شرح کے ساتھ میں با قاعدہ چندہ ادا کرنے سے باہر نہ رہے۔اور جو استثناء کیا جائے وہ با قاعدہ مرکز سے اجازت لے کر کیا جائے، اگر اس کام کو پوری کوشش کر کے وسیع کیا جائے تو موجودہ آمد ڈیڑھ گنا بڑھ سکتی ہے ہے۔مثلاً اس وقت اگر سات لاکھ ہے تو کوشش کرنے سے دس گیارہ لاکھ ہو سکتی ہے۔اگر پوری توجہ اور کوشش سے کام لیا جاتا تو جتنی آمدنی اس وقت جنگ کے ایام میں ہو رہی ہے۔اتنی آمدنی جنگ سے پہلے ہو سکتی تھی اور جنگ کے ایام میں یہ آمدنی بڑھ سکتی تھی۔میرے نزدیک اب بھی اگر بیت المال پوری کوشش سے کام کرے تو جنگ کے بعد موجودہ مد نہ صرف قائم رہ سکتی ہے بلکہ بڑھ سکتی ہے۔اور جنگ کے بعد جس کمی کا خطرہ ہے اُس کمی کو اِس کوشش سے پورا کیا جا سکتا ہے کہ جماعتوں میں با شرح اور باقاعدہ چندہ ادا کرنے کی عادت ڈالی جائے۔