خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 615 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 615

خطبات محمود 615 $1944 وقف جائیداد کی تحریک مکمل ہو جائے اور جن لوگوں نے ابھی تک اس میں حصہ نہیں لیا وہ بھی حصہ لیں تو پھر اس روپیہ کی مقدار جسے ہم ضرورت کے وقت مہیا کر سکتے ہیں اور بھی بڑھ جائے گی۔لیکن جیسا کہ میں پہلے بھی کئی دفعہ بیان کر چکا ہوں۔یہ آخری حد اور ہماری آخری خندق ہو گی۔اس سے پہلے ہم اپنا سارا زور لگا دیں گے کہ طوعی چندہ سے سلسلہ کی ضرورتیں پوری ہوں۔وقف جائیداد کی سکیم ہماری آخری خندق ہے مگر یہ ایسی چیز ہے اور ایسی شاندار خندق ہے کہ اس کی وجہ سے کام کرنے والوں کی ہمتیں بڑھ جاتی ہیں اور حوصلے بلند ہو جاتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں جب کوئی صورت نہ رہے گی تو ہمارے پاس ایک ایسی چیز موجود ہے جس می سے کام کی ضرورت کے مطابق ہم روپیہ لے سکتے ہیں۔اس وقت تک ساری جماعت نے اس کی اہمیت کو نہیں سمجھا۔اس وقت تک صرف سولہ سو کے قریب آدمیوں نے وقف جائیداد کی تحریک میں حصہ لیا ہے اور یہ قریباً سوا کروڑ روپیہ کا وقف صرف سولہ سو آدمیوں کی جائیدادوں اور آمدنیوں کے وقف سے قائم ہوا ہے۔اگر جماعت کے باقی افراد بھی اس کی اہمیت کو سمجھیں اور اس تحریک میں حصہ لیں۔بلکہ اگر صرف پانچ چھ ہزار آدمی ہی اِس تحریک میں حصہ لیں تو یہ تحریک بہت مضبوط ہو سکتی ہے اور اس وقت تک جتنی جائیدادیں ہیں وقف ہو چکی ہیں اگر ہم ان وقف کرنے والوں کی جائیدادوں کی قیمت موجودہ واقتحسین کی تین جائیداد کی قیمت سے نصف بھی لگا لیں تو بھی موجودہ وقف شدہ جائیدادیں ملا کر اڑھائی کروڑ کے روپیہ کا وقف ہو جائے گا۔بلکہ اس سے بھی زیادہ۔جس کے یہ معنے ہیں کہ اگر ہم اڑھائی کروڑ روپیہ کی وقف شدہ جائیدادوں پر صرف پانچ فیصدی کا مطالبہ کریں تو بارہ تیرہ لاکھ روپیہ کی منی آمدنی چند ماہ میں ہو سکتی ہے۔پس اگر ہم دنیا میں وسیع پیمانہ پر حملہ کرنا چاہتے ہیں اور ایسے رنگ میں تبلیغ کرنا چاہتے ہیں جو دنیا میں ہیجان پیدا کر دے تو اس کے لیے نہایت ضروری ہے کہ ہمارے پاس کوئی ایسی چیز ہو جس کے ذریعہ ہم فوری ضرورت کو پورا کر سکیں۔ممکن ہے کسی ملک میں ایسا جوش پیدا ہو جائے کہ وہاں پر بہت سے مبلغین بھیجنے پڑیں اور ہمیں مبلغین کی تعداد اور خرچ کو بڑھانا پڑے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانہ میں ایک موقع پر اکٹھے چالیس مبلغ ایک ہے