خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 493 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 493

خطبات محمود 493 $1944 واپس آجاتا ہے تو خدا تعالیٰ کو ایسا ہی اطمینان اور ایسی ہی راحت ہوتی ہے جیسے کہ ایک ماں کو اپنے گمشدہ بچے کے مل جانے سے ہوتی ہے۔5 پس بُھولے بھٹکے انسان بھی خدا تعالیٰ کے حضور ایسے ہی ہیں جیسے ایک ماں کا گمشدہ بچہ۔اور ان کا خدا کے حضور میں واپس آ جانا اور ہدایت پا جانا ایسا ہی ہے جیسے ماں کو اُس کا بچہ مل جائے۔کوئی ذلیل سے ذلیل اور کمپنی سے کمیٹی یہاں بھی اس شخص کے متعلق جو اُس کا گمشدہ بچہ اُس کے پاس لائے یہ نہیں کر سکتی کہ اپنے ہے پر کو تو واپس لے لے اور اُس لانے والے کو کہے کہ تم اپنے گھر جاؤ۔وہ کوشش کرے گی کہ اُس کی خدمت کا اسے موقع ملے اور اس کی عزت کرے گی۔پس کس طرح ممکن ہے کہ کوئی ہے ایسا سامان کرے جس سے خدا تعالیٰ کے بُھولے بھٹکے بندے اُس کی درگاہ میں واپس آجائیں اور خدا تعالی اس کو کہے کہ تم میرے بچہ کو تو لے آئے، یہ مجھے دے دو اور تم جنت ہے سے باہر رہو۔لازمی بات ہے کہ جو شخص بھی خدا کے بندوں کو واپس لائے گا خدا تعالیٰ جنت میں اُس کا گھر بنائے گا۔پس یہ ایک طبیعی بدلہ ہے جو مسجد بنانے سے لکھتا ہے۔انسان کے بدلہ دینے اور خد اتعالیٰ کے بدلہ دینے میں یہاں ایک یہ فرق ہے۔انسان جانتا ہے کہ جو شخص اُس کے گمشدہ بچہ کو واپس لایا ہے اس کا اپنا بھی گھر ہے، اس کے اپنے بھی ہے بیوی بچے ہیں جن کو وہ چھوڑ نہیں سکتا۔مگر خدا تعالیٰ کے معاملہ میں یہ بات نہیں۔کیونکہ وہاں پر اس شخص کا اپنا کوئی گھر نہیں ہو گا، اس کے بیوی بچے بھی وہیں ہوں گے جہاں خدا اس کے لیے لیے گھر بنائے گا۔اس لیے بندے کی جزاء اور خدا تعالیٰ کی جزاء میں فرق ہے۔انسان اپنے گمشدہ بچہ کو لانے والے کو چند دن کا مہمان بناتا ہے خدا تعالیٰ اسے ہمیشہ کے لیے اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے۔پھر خدا کا گھر اتنا وسیع ہے کہ ادنیٰ سے ادنی نیکی کے بدلہ میں بھی جو مکان ملے گا اُس کی چوڑائی زمین اور آسمان کے برابر ہو گی۔پس بندہ اپنی وسعت اور حیثیت کے مطابق بدلہ دیتا ہے اور خدا تعالیٰ اپنی حیثیت کے مطابق بدلہ دے گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک طرف تو یہ فرمایا ہے کہ مسجد کا بنانا ایسا ہے جیسے بھٹ تیتر اپنے انڈے کے لیے جگہ بناتا ہے، جہاں پر اُس کو سیتا اور اُس میں سے بچہ نکالتا ہے۔یعنی وہ تبلیغ و ہدایت کے لیے افزائش نسل کا موجب ہیں اور دوسری طرف آپ نے مین