خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 494

$1944 494 خطبات محمود اشاعتِ اسلام کے یہ معنے فرمائے ہیں کہ تبلیغ کر کے خدا تعالیٰ کے بُھولے بھٹکے انسانوں کے راہ راست پر لانا ایسا ہی ہے جیسے کھوئے ہوئے بچہ کو واپس لانا۔ان دونوں باتوں کے بعد ایک تیسرا نتیجہ بھی طبعی طور پر نکلتا ہے۔جو یہ ہے کہ اگر مسلمان حقیقی طور پر ترقی کرنا چاہتے ہیں تو ان کو چاہیے کہ اپنے مرکزی کاموں اور مرکزی ہے چیزوں کو بالخصوص مساجد کو مضبوط بنائیں۔اسلام نے تمام کاموں کامرکز مسجد کو قرار دیا ہے۔مسلمانوں کے تمام کام مساجد میں ہوتے تھے۔قضاء کا کام مسجدوں میں ہو تا تھا، معلم مسجدوں میں درس دیتے تھے، فقیہہ مسجدوں میں فقہ کے مسائل بیان کرتے تھے ، نمازیں مسجدوں میں ہوتی تھیں، ذکر الہی مسجدوں میں ہوتا تھا، قومی اجتماع اور قومی کام مسجدوں میں ہوتے تھے، لشکر کشی کے فیصلے مسجدوں میں ہوتے تھے۔پس مسجد کو اسلام نے یہی نہیں کہ صرف تسبیح ہے پھیرنے کی جگہ بنایا ہے بلکہ قومی اجتماع کا ذریعہ قرار دیا ہے۔تبلیغ اور تنظیم کا کام مسجد میں من ہوتا ہے۔جہاد کے متعلق مشورہ کرنا ہو تو مسجد میں ہوتا ہے ، نماز پڑھنی ہو تو مسجد میں پڑھی جاتی ہے ، ذکر الہی کرتا ہو تو مسجد میں کیا جاتا ہے، اگر علمی باتوں کے متعلق مجلس ہو تو مسجد میں ہوتی ہے ہے۔غرضیکہ مسجد مرکز ہے تمام قومی کاموں کا، مرکز ہے تمام اجتماعی کاموں کا، مرکز ہے اندرونی انتظامات کرنے کا، مرکز ہے بیرونی انتظامات کرنے کا۔یہ ظاہر ہے کہ وہ جماعت جس کا قومی مرکز نہ ہو وہ پورے طور پر اپنی تعلیم اور تبلیغ کو چی پھیلا نہیں سکتی۔اس لیے جہاں بھی کوئی جماعت پورے طور پر اپنی تعلیم کو پھیلانا چاہتی ہو۔اس کے لیے مرکز کا ہو نانہایت ضروری ہے۔اول تو شہرت ہی مرکز سے ہوتی ہے۔ایک شخص جو تبلیغ کرنے کے لیے باہر جاتا ہے اور وہاں پر کرایہ کے مکان میں رہتا ہے سارے جانتے ہیں کہ اُس کی رہائش یہاں پر عارضی ہے اس لیے کوئی اثر نہیں ہوتا اور نہ ہی شہرت ہوتی ہے۔اور اگر کوئی اُس کا پتہ دریافت کرے کہ فلاں شخص کہاں رہتا ہے ؟ تو کوئی بھی نہیں بتائے گا۔اور اگر کسی بڑے شہر مثلا نیو یارک پالندن میں کوئی شخص کسی کا نام لے کر اُس کا پتہ پوچھتا پھرے کہ جی ! فلاں شخص کہاں رہتا ہے تو وہ ہنس پڑیں گے۔کیونکہ کرایہ دار تو ہر مہینے جگہ بدل لیتا ہے ہے لیکن اگر وہاں پر مسجد ہو تو اس میں چونکہ تبدیلی نہیں ہو سکتی وہ پتہ مشہور ہو جائے گا اور می