خطبات محمود (جلد 25) — Page 416
خطبات محمود 416 $1944 منظور نہیں، رسم و رواج کی پابندی ہمیں منظور ہے۔یہ کتنی بڑی ظلمت ہے جو ان کے دماغوں پر چھائی ہوئی تھی۔جب کوئی نئی تعلیم خدا تعالیٰ کی طرف سے آتی ہے پہلی ظلمت یہی ہوتی ہے کہ لوگ اپنے آباء واجداد کی اقتداء کو ترک کرنا پسند نہیں کرتے۔جیسے عنکبوت نے اپنے ارد گرد ایک جالا بنا ہوتا ہے جس میں سے نکلنا وہ پسند نہیں کرتی اسی طرح ان کے آباء و اجداد نے ایک جالاشن دیا ہوتا ہے جس میں سے نکل کر وہ خدا کی وسیع دنیا کو دیکھنا نہیں چاہتے۔پھر دوسری ظلمت عادات کی ہے۔بہت سے احکام تو رسم و رواج کے ماتحت لوگ چھوڑ دیتے ہیں جن کا اُن سے منوانا بہت مشکل ہوتا ہے۔اور جو باتیں رسم و رواج سے باہر رہ جاتی ہیں وہ عادات کے چکر میں آجاتی ہیں۔جیسے شادی بیاہ کا معاملہ ہے، اولاد کی تربیت کا معاملہ ہے، عورتوں سے حسن سلوک کا معاملہ ہے، کسی کے مرنے کے بعد اس کے بعض ہے رشتہ داروں کا ایصالِ ثواب کے عمل کا معاملہ ہے۔یہ ساری چیزیں رسم و رواج کے ماتحت آجاتی ہیں۔پھر ان سے ہٹ کر جو نماز اور روزہ اور حج اور زکوۃ وغیرہ کے مسائل ہیں وہ عادتوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔بچپن سے انہیں نماز اور روزے کی عادت ہی نہیں ہوتی۔جب کوئی شخص اُن کے پاس پہنچے، انہیں دین کی تعلیم دے، انہیں خدا اور رسول کے احکام پر چلنے کے لیے کہے تو وہ ہے کہتے ہیں بات تو ٹھیک ہے لیکن ہم نے یہ کام کبھی کیے نہیں اس لیے ہم سے ایسا نہیں ہو سکتا۔پھر تیسری ظلمت اکابر کا اثر ہوتا ہے۔یعنی قوم میں جو بڑے لوگ ہوتے ہیں اُن کی با تیں عام لوگ رد نہیں کر سکتے۔پس اگر کوئی چیز رسم و رواج کی زد میں نہیں آتی، اگر کوئی چیز ہے عادات کی زد میں نہیں آتی تو وہ اکابر کے اثر کی زد میں آجاتی ہے۔لوگ کہتے ہیں فلاں میں چودھری صاحب جب یوں کہتے ہیں، فلاں رئیس صاحب جب اِس طرح کہتے ہیں تو ہم ان کو کس طرح چھوڑ دیں۔یہ تو عوام کا حال ہے۔بڑوں کے لیے تیسری ظلمت جتھا بندی کی ہوتی ہے۔جس طرح عوام کہتے ہیں ہم بڑوں کو نہیں چھوڑ سکتے اسی طرح بڑے کہتے ہیں کہ ہم جماعت کو نہیں چھوڑ سکتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا ابو طالب رسول کریم می صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑی محبت رکھتے تھے اور واقع میں اُنہوں نے ایسی شاندار قربانیاں دین اسلام کی امداد کے لیے کی ہیں کہ ان کو دیکھ کر حیرت آتی ہے کہ کس طرح وہ شخص جو می