خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 417

خطبات محمود 417 $1944 رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جماعت میں شامل نہیں تھا آپ کے لیے ہر طرح قربانیاں کرتا رہا۔ایک دفعہ ابو طالب کی قوم کے لوگ اُن کے پاس آئے اور کہا ابو طالب ! ہم نے اب تک تمہاری خاطر تمہارے بھتیجے کو کچھ نہیں کہا۔مگر اب اس کی باتیں حد سے بڑھتی جاتی ہیں۔وہ ہمارے معبودوں کی نسبت روز بروز ایسے الفاظ استعمال کر رہا ہے جن کا سُننا ہماری طاقت برداشت سے باہر ہے اور اب ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ اگر اس کی طرف سے یہی کیفیت جاری رہی تو ہم تمہارا بھی لحاظ نہیں کریں گے۔پس یا تو زور ڈال کر اس سے ہماری باتیں منوالو۔ہم اور کچھ نہیں چاہتے وہ صرف اتنا کرے کہ ہمارے معبودوں کو بُرا بھلانہ کہے۔اپنی تعلیم بے شک پیش کرتا رہے لیکن ہمارے معبودوں کے نقائص اور ان کی کمزوریاں بیان نہ کرے۔اور اگر ایسا نہ ہوا تو اے ابو طالب! ہمیں تم کو چھوڑ دینا پڑے گا۔ابو طالب نے مجے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلایا اور کہا اے میرے بھتیجے ! میری قوم کے سردار آج میرے پاس آئے تھے انہوں نے کہا ہے کہ ہم نے تیری خاطر تیرے بھتیجے کو اب تک زیادہ تکلیف نہیں دی مگر اب اس کی باتیں حد سے بڑھ گئی ہیں۔وہ ہمارے معبودوں کی تنقیص کرتا ہے، وہ ان کی کمزوریاں اور نقائص بیان کرتا ہے اور یہ چیز ایسی ہے جس کو ہم برداشت نہیں ہے کر سکتے۔پس اپنے بھتیجے کو سمجھا لو۔ہم اس سے اور کچھ نہیں چاہتے۔صرف اتنا کہتے ہیں کہ و ہمارے معبودوں کے نقائص بیان نہ کیا کرے اور جو کچھ چاہے کہتا رہے۔جاتے ہوئے انہوں میں نے آخری دھمکی بھی دے دی ہے کہ اے ابو طالب ! اگر تم اپنے بھتیجے کو سمجھاؤ گے نہیں تو ہم تم سے بھی قطع تعلق کر لیں گے۔میں نے جیسا کہ بتایا ہے یہ چوتھی ظلمت بھی بڑی خطرناک ہے ہوتی ہے یا اگر چو تھی نہیں تو اکابر کے لحاظ سے اسے تیسری ظلمت سمجھ لو۔بہر حال یہ ظلمت میں اکابر کے لیے بڑی خطر ناک ہوتی ہے۔چنانچہ ابو طالب یہ ذکر کرتے ہی رو پڑے اور کہنے لگے اے میرے بھتیجے ! تو جانتا ہے کہ قوم کا چھوڑ نا کتنا گراں ہوتا ہے۔ان کی یہ بات سن کر مجھ می سے برداشت نہیں ہو سکا اور میں نے تجھ کو اسی لیے بلایا ہے کہ تجھ سے دریافت کروں کہ آیا می تو اپنے رویہ میں کوئی تبدیلی کرنے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟ اپنے مہربان چا کی رقت اور اُن کی پر نم آنکھوں کو دیکھ کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں بھی آنسو آگئے۔ہم