خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 326

$1944 326 خطبات محمود بلکہ یہ بھی ہے کہ غیر احمدی علماء میں سے بھی ایک تعداد کو اپنے ساتھ شامل کریں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں بعض علماء جماعت میں شامل ہوئے اور اُن کے ساتھ ہزاروں لوگ جماعت میں شامل ہوئے۔مگر اس کے بعد غیر احمدی علماء کو اپنی طرف کھینچنے میں ہماری طرف سے بہت کو تاہی ہوئی ہے۔اب میں نے اس بارہ میں بھی ہدایات دی ہیں اور ابھی بعض اور ہدایات دوں گا۔کوئی وجہ نہیں کہ اگر عوام احمدیت کو قبول کر سکتے ہیں تو علماء نہ کریں۔کو تا ہی ہماری طرف سے ہے۔کہتے ہیں العِلْمُ حِجَابُ الْأَكْبَر۔بات یہ ہے کہ علماء اس طریق خطاب کو پسند نہیں کرتے جس سے عوام کو خطاب کیا جاتا ہے۔وہ ذرا ذرا سی بات پر اپنی ہتک محسوس کرتے ہیں۔جب تک ان کو اس طرح خطاب نہ کیا جائے کہ وہ محسوس کریں کہ ہمیں رسوا نہیں کیا جارہا بلکہ نجات کی طرف بلایا جاتا ہے وہ توجہ نہیں کر سکتے۔پس ضروری ہے کہ ہمارے دوست علماء سے ملیں اور اُن کو مناسب رنگ میں تبلیغ کریں۔ایک دوست نے اطلاع دی ہے کہ مولوی محمد شریف صاحب نے فلسطین سے لکھا ہے کہ جامعہ ازہر کا ایک بڑا عالم احمدی ہو گیا ہے۔مجھے مولوی صاحب کا ایسا کوئی خط نہیں ملا۔ممکن ہے رستہ میں کہیں گم ہو گیا ہو۔بہر حال اگر یہ خبر صحیح ہے " تو بہت خوش کن ہے۔ازہر یونیورسٹی دنیا میں ایک ہی یونیورسٹی ہے جہاں اسلام اور عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کا انتظام ہے اور اگر اس کا ایک بڑا عالم احمدی ہو گیا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا دروازہ اس رنگ میں بھی کھلنا شروع ہو گیا ہے اور اس یونیورسٹی کے علماء میں سے بھی احمدی ہونے شروع ہو گئے ہیں جو اسلام کا گہوارہ سمجھی جاتی ہے۔ایک اور بات جس کی طرف میں دوستوں کو توجہ دلانا چاہتا ہوں وہ کالج کے متعلق ہے۔کالج شروع کر دیا گیا ہے۔پروفیسر بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے مل گئے ہیں۔اب ضرورت اِس امر کی ہے کہ چندہ جمع کیا جائے اور لڑکوں کو اس میں تعلیم کے لیے بھجوایا جائے۔ہر وہ احمدی جس کے شہر میں کالج نہیں وہ اگر اپنے لڑکے کو کسی اور شہر میں تعلیم کے لیے بھیجتا ہے ہے * بعد میں میں نے خط پڑھ لیا ہے ، خبر صحیح ہے۔