خطبات محمود (جلد 25) — Page 322
$1944 خطبات محمود عمل 322 اینٹوں، چونے، گارے، لکڑی اور لوہے کے سامان کو آپس میں موزوں طور پر حاصل ہوتی ہے۔جب وہ سب چیزیں جو عمارت میں استعمال ہوتی ہیں ایک خاص نسبت سے آپس میں ملتی ہیں تو اس کا نام عمارت ہوتا ہے۔اگر دس ہزار کیوبک فیٹ (FEET) لکڑی کسی جگہ پڑی ہو تو جی اسے عمارت نہیں کہا جا سکتا خواہ کوئی معمولی جھونپڑی ہی کیوں نہ بنائی ہو۔دس ہزار کیوبک فیٹ لکڑی کا نام جھونپڑی نہیں ہو سکتا۔بلکہ جھونپڑی بنے گی اُس تھوڑی سی لکڑی، اینٹوں اور گارے و چونے کو ایک خاص نسبت کے ساتھ آپس میں ملانے سے جو اُس جھونپڑی کے لیے ضروری ہیں۔اسی طرح خالی نمازیں ایمان نہیں کہلا سکتیں۔خالی روزے، خالی حج اور خالی زکوۃ کو ایمان نہیں کہا جاسکتا۔جب تک ان کی نسبت کا آپس میں توازن قائم نہ ہو جائے گا ایمان نہیں ہو سکتا۔جس طرح جب تک اینٹ ، چونا، گارا، لکڑی اور لوہے کا سامان ایک نسبت اور توازن کے ساتھ اپنی اپنی جگہ نہ رکھا جائے مکان نہیں بن سکتا۔اسی طرح نماز کا نام ایمان اور اسلام نہیں رکھا جاسکتا، نہ روزوں کا نام ایمان اور اسلام ہے، نہ نبیوں پر ایمان لانے کا نام اسلام ہے، نہ سچ بولنے اور جھوٹ سے بچنے کا نام اسلام ہے، نہ ظلم سے اجتناب کا نام اسلام ہے۔بلکہ ایمان اور اسلام کے لیے ضروری ہے کہ نماز، روزہ، زکوۃ، حج ، ایمان بالانبیاء ایمان بالقضاء، ایمان بالدعاء، حشر و نشر اور بعث بعد الموت پر ایمان نیز تمام اعلیٰ اخلاق کسی شخص کے درجہ کے مطابق ایک خاص نسبت اور توازن کے ساتھ اُس کے دل میں جمع ہو جائیں۔اور ان سب باتوں کا جماعت کے دوستوں کے دلوں میں پیدا کر ناضروری ہے اور یہ ایک لمبا کام ہے۔محض کسی تجویز کا خواہ وہ کتنی اعلیٰ اور اچھی کیوں نہ ہو شائع کر دینا کافی نہیں۔بعض نادان جب یہ سنتے ہیں کہ ہم اس طرح کام کرنے لگے ہیں تو وہ سمجھ لیتے ہیں کہ بس کام ہو گیا اور اسلام کو فتح حاصل ہو گئی۔حالانکہ یہ بہت ہی مشکل کام ہے۔جب تک خون پسینہ ایک نہ ہو جائے یہ کام نہیں ہو سکتا۔میں نے بعض تحریکات چند روز سے شروع کی ہیں۔انہیں خیال نہیں کہا جاسکتا کہ وہ خیال سے بالا ہیں۔انہیں ارادہ بھی نہیں کہا جا سکتا کہ وہ اس سے بھی بالا ہیں۔تفصیلی تشکیل کا می نام بھی انہیں نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اس سے کچھ زیادہ ہیں۔بلکہ سامان ذریعہ حاصل کرنے کے