خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 245 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 245

خطبات محمود 245 $1944 داغ بیل رکھ دی گئی ہے اور امید ہے کہ سال ڈیڑھ سال تک کام ایک معین صورت اختیار کر لے گا۔غرض یہ نئی سکیم اور ہماری سندھ کی زمینیں ایسی چیزیں ہیں جن سے سلسلہ کا مالی پہلو خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت مضبوط ہو سکتا ہے اور جماعت کی موجودہ حالت کے لحاظ سے تبلیغ کے لیے دس بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کا بوجھ آسانی سے برداشت کیا جاسکتا ہے۔سندھ کی زمینوں کے متعلق مجھے اللہ تعالیٰ نے ایک رؤیا بھی دکھایا تھا اور اسی رؤیا کی بناء پر میں نے صدر انجمن احمدیہ کو وہاں کی زمینیں خریدنے کی ہدایت کی۔بہت عرصہ کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ میں ایک نہر پر کھڑا ہوں، اس کا پانی نہایت ٹھنڈا اور اس کے کی چاروں طرف سبزہ ہے کہ اسی حالت میں ایک دم شور کی آواز آئی۔میں نے اوپر کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا کہ نہر ٹوٹ کر اس کا پانی تمام علاقہ میں پھیل گیا ہے اور سرعت سے بڑھتا جاتے رہا ہے۔میں نے چاہا کہ واپس لوٹوں تاکہ پانی میرے قریب نہ پہنچی جائے مگر ابھی میں یہ می خیال ہی کر رہا تھا کہ میں نے دیکھا میرے چاروں طرف پانی آگیا ہے۔پھر میں نے دیکھا کہ نہر کا بند ٹوٹ گیا اور میں بھی نہر کے اندر جا پڑا۔جب میں نہر کے اندر گر گیا تو میں نے تیرنا شروع کیا۔یہاں تک کہ میلوں میل میں تیر تا چلا گیا مگر میر ا پاؤں کہیں نہ لگا۔یہاں تک کہ میں نے سمجھائیں تیرتے تیرتے فیروز پور تک پہنچ گیا ہوں۔تب گھبراہٹ کی حالت میں ہی مینی میں دعا کرتا ہوں کہ یا اللہ ! سندھ میں تو پیر لگ جائیں۔یا اللہ !اسندھ میں تو پیر لگ جائیں۔اور جب میں نے یہ دعا کی تو مجھے معلوم ہوا کہ سندھ آگیا ہے۔پھر جو میں نے کوشش کی تو پیر تک گیا اور پھر میرے دیکھتے ہی دیکھتے سب پانی غائب ہو گیا۔یہ رویا 1915ء میں میں نے دیکھا تھا۔اُس وقت سندھ میں نہروں کا نام و نشان بھی نہ تھا۔اس کے ایک لمبے عرصہ کے بعد وہاں نہریں نکلیں اور ہم نے یہ زمین خریدنی شروع کر دی تو اللہ تعالیٰ نے سندھ میں ہمیں اتنی بڑی زمین دے دی ہے کہ اگر پنجاب میں اتنی ہی زمین کسی زمیندار کو مل جاتی تو اس کے لیے شادی مرگ ثابت ہوتی۔ساری عمر لوگ گورنمنٹ کی خوشامد میں کرتے رہتے ہیں اور پھر انہیں اگر پانچ یا دس مربعے مل جائیں تو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ گورنمنٹ نے اُن کی سات پشتوں کی قدر افزائی کر دی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے