خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 246 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 246

$1944 246 محمود وه گھر بیٹھے ہمیں قریباً چار سو مربع زمین دے دیا۔چار سو میں پندرہ بیس مربع کی کمی ہے إِنْشَاءَ اللهُ تعالی جلدی پوری ہو جائے گی۔میری نیت تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سلسلہ کی ہزاروں مربع زمین بن جائے۔اسی طرح اور کئی کام میرے ذہن میں ہیں اور میں چاہتا ہوں ان کاموں میں اس قدر وسعت ہو اور ان ذرائع سے ہمیں اس قدر آمد ہو کہ سلسلہ کے وہ تمام کام جو میں نے کرنے ہیں آسانی اور سہولت سے ہو جائیں۔مگر اس کے لیے مخلص آدمیوں کی ضرورت ہے۔لیکن یہ یادرکھو کہ آمد کی زیادتی کے ہر گز یہ معنے نہیں ہیں کہ کسی وقت تم اپنے چندوں سے آزاد ہو جاؤ گے یا کوئی وقت جماعت پر ایسا بھی آجائے گا جب تم سے ہے قربانی کا مطالبہ نہیں کیا جائے گا۔میں ایک انسان ہوں اور آخر ایک دن ایسا آئے گا جب میں مر جاؤں گا اور پھر اور لوگ اس جماعت کے خلفاء ہوں گے۔میں نہیں جانتا اُس وقت کیا حالات ہوں۔اس لیے میں ابھی سے تم کو نصیحت کرتا ہوں تاکہ تمہیں اور تمہاری اولادوں کو ٹھوکر نہ لگے کہ اگر کوئی خلیفہ ایسا آیا جس نے یہ سمجھ لیا کہ جب جماعت کو زمینوں سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے، تجارتوں سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے، صنعت و حرفت سے اس قدر آمدنی ہو رہی ہے تو پھر اب جماعت سے کسی اور قربانی کا مطالبہ کی کیا ضرورت ہے۔اس قدر روپیہ آنے کے بعد ضروری ہے کہ جماعت کی مالی قربانیوں میں کمی کر دی جائے۔تو تم یہ سمجھ لو وہ خلیفہ خلیفہ نہیں ہے ہو گا بلکہ اس کے یہ معنی ہوں گے کہ خلافت ختم ہوگئی اور اب کوئی اسلام کا دشمن پیدا ہو گیا ہے۔اور جس دن تمہاری تسلی اس بات پر ہو جائے گی کہ روپیہ آنے لگ گیا ہے اب قربانی کی ہیں کیا ضرورت ہے اُسی دن تم سمجھ لو کہ جماعت کی ترقی بھی ختم ہو گئی ہے۔میں نے بتایا ہے کہ می جماعت روپے سے نہیں بنتی بلکہ آدمیوں سے بنتی ہے اور آدمی بغیر قربانی کے تیار نہیں ہے ہو سکتے۔اگر دس ہزار ارب روپیہ آنا شروع ہو جائے تب بھی ضروری ہوگا کہ ہر زمانہ میں جماعت سے اسی طرح قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے جس طرح آج کیا جاتا ہے۔بلکہ اس سے بھی زیادہ مطالبہ کیا جائے کیونکہ ابھی بڑی بڑی قربانیاں جماعت کے سامنے نہیں آئیں۔پس چاہے ایک ارب پونڈ خزانہ میں آجائے تب بھی خلیفہ وقت کا فرض ہو گا کہ وہ ایک غریب کی جیب