خطبات محمود (جلد 25) — Page 142
خطبات محمود 142 $1944 پس اپنے دل خدا کی طرف متوجہ کرو اور ایسے اخلاص اور ایسی محبت سے اُس کی طرف جھکو کہ تمہیں اس کے ذکر میں لذت آنے لگے۔پھر اس ذکر پر مداومت اختیار کرو تامد اومت کی وجہ سے اس کی محبت تمہارے جسم کا جزو بن جائے۔جب خدا کی محبت تمہارے دلوں میں حقیقی طور پر پیدا ہو جائے گی تو وہی وقت ہو گا جب تم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقام اور اس کی عظمت کو سمجھ سکو گے۔حقیقت یہ ہے کہ گو انبیاء خدا تعالیٰ کی شان دنیا میں ظاہر کر کے دکھاتے ہیں مگر وہ ایک مبہم سا نظارہ ہوتا ہے۔اصل حقیقت یہی ہے کہ خدا کے ذریعہ سے ہی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا جاسکتا ہے اور خدا کے ذریعہ سے ہی حضرت مسیح موعود الصلوۃ والسلام کو دیکھا جا سکتا ہے۔جس نے خدا کو نہیں دیکھا اس نے محمد صلی اللہ علیہ و کو نہیں دیکھا اور جس نے خدا کو نہیں دیکھا اُس نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی نہیں دیکھا۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کا ایک ظلی نور ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام خدا تعالیٰ کا ایک ظلی نور ہیں۔پس جس کا خدا سے تعلق ہو جائے گا وہ ان نوروں کا بھی مشاہدہ کرلے گا اور جس کا خدا سے تعلق نہیں ہو گا وہ ان نوروں کو بھی نہیں دیکھ سکے گا۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کے شروع میں ہی الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ 8 کہا۔جس کے معنی یہ ہیں کہ سچی تعریف کرنا خدا کا ہی کام ہے۔پس ہم کسی صاحب کمال کی حقیقت کو اُسی وقت پہچان سکتے ہیں جب ہم خدا تعالیٰ کو مل کر اُس کے درجہ سے واقف ہوتے ہیں۔پس حقیقت ہی ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی شخص محمد نہیں مان سکتا جب تک وہ خدا تعالیٰ کا عارف نہیں۔اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کوئی شخص ما مسیح موعود نہیں مان سکتا جب تک وہ خدا کا عارف نہیں ہوتا۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ اُن نشانات کو جو انبیاء کے ذریعہ ظاہر ہوتے ہیں اپنی جلوہ نمائی کا ایک ذریعہ بنا لیتا ہے۔مگر سوال تو یہ ہے کہ ان کو ذریعہ کس نے بنایا؟ خدا نے۔ورنہ اگر خدا ان کو ذریعہ نہ بناتا ہے اور وہ اپنی طرف سے شور مچاتے رہتے تو دنیا کی نظر ان کی طرف کہاں اُٹھ سکتی تھی۔خدا کا کلام ہی تھا جس سے وہ دنیا کی توجہ کا مرکز بن گئے۔اور اس لیے مرکز بنے کہ لوگوں نے کہا۔