خطبات محمود (جلد 25)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 143 of 778

خطبات محمود (جلد 25) — Page 143

خطبات محمود 143 $1944 اللہ تعالیٰ کی باتیں ہمیں سناتے ہیں، یہ اُسی کی طرف ہمیں بلاتے ہیں۔آؤ ہم ان کی باتوں کی طرف توجہ کریں کہ اس میں ہمارا ہی فائدہ ہے۔پس اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ کرو اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھو اور فتنوں کے اس مرکز میں رہ کر ہر قسم کے فتنے منانے کی پوری کوشش ہے کرو۔صوبہ کا مرکز ہونے کے لحاظ سے اس جگہ کی ترقی سارے پنجاب پر اثر انداز ہوتی ہے۔اسی طرح یہاں کے جو فتنے ہیں اُن کا مقابلہ بھی ضروری ہے۔کیونکہ ان کا اثر بھی مقامی نہیں بلکہ بہت دور تک جاتا ہے۔یاد رکھو! خدا تعالیٰ نے جو تمہارے ساتھ وعدے کیے ہیں ان کے پورا ہونے کے لیے ضروری ہے کہ آپ لوگ قربانیاں کریں۔آپ لوگوں کی قربانیاں ہی ہیں جو سلسلہ کو فائدہ پہنچائیں گی اور وہ قربانیاں ایسی ہی ہونی چاہئیں جیسے اعلیٰ درجہ کے صحابہ نے کیں۔وہ ایسے تھے ؟ کہ انہوں نے اپنے نفس کے تمام گوشوں سے دُنیا کی محبت نکال دی تھی اور وہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں ایسے مست ہو گئے تھے کہ دنیا انہیں بالکل حقیر اور ذلیل نظر آتی تھی۔وہ ہمیشہ خدا تعالی کے کام کو مقدم رکھتے تھے اور اپنے کام مؤخر رکھتے تھے۔مگر اب وہ زمانہ ہے کہ لوگ اپنے تم کاموں کو مقدم رکھتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جس قربانی کا مطالبہ ہو اُسے مؤخر کرتے ہیں۔حالانکہ صحابہ کی یہ حالت تھی کہ جب بھی قربانی کا کوئی مطالبہ ہوتا پہلے وہ اس قربانی میں مجھے حصہ لیتے تھے اور بچا ہو ا حصہ آپ لیتے تھے۔حدیثوں میں آتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ چند مہمان بعض صحابہ میں تقسیم کر دیئے کہ وہ ان کو اپنے اپنے گھروں میں لے جائیں اور انہیں روٹی کھلائیں۔ایک صحابی جب مہمان کو اپنے گھر میں لائے تو انہیں معلوم ہوا کہ اُن کے گھر میں ایک ہی آدمی کا کھانا ہے۔انہوں نے بیوی سے مشورہ کیا کہ بچوں کو بھو کا سُلا دیا جائے۔چنانچہ انہیں بہلا کر بھوکا سُلا دیا گیا۔دوسری طرف بیوی نے یہ تدبیر کی کہ خاوند سے کہا جب مہمان تمہارے ساتھ کھانا کھانے کے لیے بیٹھے تو مجھے کہنا دئے کی بیٹی اونچی کر دو اور میں اسے اونچی کرنے کے بہانے سے نکل کر دوں گی۔چنانچہ جب مہمان آیا تو میاں بیوی دونوں اس نے کے ساتھ دستر خوان پر بیٹھ گئے۔اس وقت تک پردے کا حکم نازل نہیں ہوا تھا اور عرب کے ہم