خطبات محمود (جلد 25) — Page 132
خطبات محمود 132 $1944 شہروں کی برکتیں واپس نہیں لے گا۔لیکن بعض شہر ایسے ہوتے ہیں جن کو عارضی برکتیں مل جاتی ہیں۔وہ اگر ان کو دائمی بنانا چاہیں تو دائی بن جاتی ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیں تو وہ ہے چھوٹ جاتی ہیں۔ہی ہوا کہ میں دیکھتا ہوں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو یہ الہام بھی یہاں لاہور میں سپردم بتو مایه خویش را تو دانی حساب کم و بیش را 4 یہ الہام در حقیقت آپ کی وفات کی طرف اشارہ کر تا تھا۔اللہ تعالیٰ نے آپ کی زبان سے یہ کلمات جاری فرمائے کہ سپر دم بتو مایه خویش را اے خدا! میرے لیے اس دنیا میں تیری مرضی کے مطابق جس قدر رہنا مقدر تھا وہ میں رہ چکا۔میری عمر کا جو سرمایہ تھا وہ اب میں تیرے سپر د کر رہا ہوں۔تو دانی حساب کم و بیش را تُو چاہے تو میرے اس سرمایہ کو تباہ کر دے اور چاہے تو قائم رکھ۔سو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل اور اپنے کرم سے یہی فیصلہ کیا کہ وہ اس سرمایہ کو قائم رکھے۔دشمن نے چاہا کہ وہ اس کے اندر بگاڑ پیدا کر دے مگر وہ ہمیشہ منہ کی کھاتا رہا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے ہیں میں اُس وقت پاس ہی تھا۔میں نے دیکھا کہ بعض احمدی کہلانے والے بھی اُس وقت گھبر اگئے۔لاہور کا ہی ایک شخص تھا جو اب فوت ہو چکا ہے بلکہ بعد میں وہ مرتد بھی ہو گیا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں وہ مخلص احمدی میں تھا میں نے دیکھا کہ وہ گھبرایا ہوا کبھی کمرہ کے اندر جاتا تھا اور کبھی باہر نکلتا تھا اور کہتا تھا تیے اب کیا ہو گا؟ اب کیا ہو گا؟ میری عمر اُس وقت انیس سال کی تھی اور میری تعلیم کچھ بھی نہ تھی۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی وفات کا وقت قریب آیا تو میری منی بیوی اُس سے کچھ دن پہلے مجھ سے اجازت لے کر اپنے والدین سے ملنے کے لیے میکے