خطبات محمود (جلد 24) — Page 188
$1943 188 18 خطبات محمود انسان کو چاہیئے کہ تدبیر سے کام لے مگر تقدیر پر بھی نظر رکھے (فرمودہ 3 ستمبر 1943ء) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا: ” انسانی تدابیر ایک وقت تک کام آسکتی ہیں۔اور ایک جگہ پر جا کر رُک جاتی ہیں۔بہت سے لوگ اس میں غلطی کرتے ہیں کہ تدبیر کو تقدیر کا نام دے چھوڑتے ہیں اور تدبیر کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے دنیا میں انسان کے لئے دو قانون بنائے ہیں۔ایک قانون تدبیر کا ہے اور ایک تقدیر کا۔مثلاً اللہ تعالیٰ نے انسان کو ہاتھ دیے ہیں، کان دیے ہیں، ناک دیا ہے۔پھر خدا نے عقل دی ہے ، فراست دی ہے۔ان سب کا دینا بتاتا ہے کہ انسان کو تدبیر سے کام لینا چاہیئے مگر ان سے کام لینے کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ پھر بھی ضروری نہیں کہ نتیجہ بھی ٹھیک نکلے۔مثلاً آگ ہے ، ہم جانتے ہیں کہ اس میں کپڑا ڈالا جائے تو جل جائے گا۔کپڑا اس میں ڈالنے سے پہلے اس کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے کہ آگ جلا دے گی۔آگ پر ایک مقدار میں پانی ڈالا جائے تو گو ہم نے اس پر پانی نہیں ڈالا مگر ہم یہ قبل از وقت جانتے ہیں کہ آگ پر پانی ڈالنے سے آگ بجھ جائے گی یا پھر رنگ ہیں۔سرخ ہے، سبز ہے، زرد ہے۔پیشتر اس کے کہ ان میں کوئی کپڑا ڈالا جائے ہم اس کے نتیجہ کو قبول کر لیتے ہیں کہ کپڑا ڈالیں گے تو وہ سرخ یا