خطبات محمود (جلد 24) — Page 189
$1943 189 خطبات محمود زر دیا سبز ہو جائے گا۔اس میں نہ بتانے کی ضرورت ہے اور نہ شک کرنے کی۔اس کا نتیجہ ہم کو پہلے سے ہی نظر آرہا ہوتا ہے مگر انسانی اعمال کے نتیجہ کے متعلق ہم یقین کے ساتھ نہیں کہہ سکتے کہ بُرا نکلے گا یا اچھا۔مثلاً بچے کو ماں باپ پڑھانے بٹھاتے ہیں۔اس کے متعلق کوئی یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ یہ پڑھ کر مولوی بنے گا یا ڈاکٹر بنے گا، یا کوئی اور افسر بن جائے گا کیونکہ درمیان میں بیسیوں روکیں ہیں۔ہو سکتا ہے بچہ تعلیم کے درمیان میں مر جائے یا درمیان میں کسی وجہ سے پڑھائی ہی چھوڑ دے یا پھر کند ذہن ہو۔ہم دیکھتے ہیں کہ بیسیوں بچے کند ذہنی کی وجہ سے پڑھائی نہیں کر سکتے یا آوارہ گردی میں مبتلا ہو کر پڑھائی چھوڑ بیٹھتے ہیں۔تو جس طرح رنگ میں کپڑا ڈالتے وقت ہم یہ یقینی خبر دے سکتے ہیں کہ سرخ، زرد یا اور کوئی رنگ ہو جائے گا۔ہم کسی لڑکے کی پڑھائی کے متعلق نہیں کہہ سکتے کہ وہ بی۔اے ہو جائے گا۔اس کے راستہ۔میں موت ہے۔وہ اپانچ ہو سکتا ہے۔یا اسے اور کوئی بیماری لگ سکتی ہے۔اس کے لئے کند ذہنی بھی حائل ہو سکتی ہے۔پس بیسیوں اسباب ایسے ہیں جو اس چیز کو روک سکتے ہیں۔اس لئے ہم یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس کی تعلیم کا نتیجہ یہ نکلے گا۔یہی حال انسان کے دوسرے اعمال کا ہے حتی کہ بیماریاں اور علاج بھی ایسے ہیں کہ ان کے متعلق بھی ہم جس طرح رنگ کے متعلق کہہ سکتے ہیں کہ کپڑا سرخ ہو جائے گا نہیں کہہ سکتے کہ فلاں دوائی سے مریض ضرور اچھا ہو جائے گا۔بعض دفعہ دوائی طبیعت کے موافق نہیں پڑتی یا نسخہ بناتے وقت غلطی ہو جاتی ہے۔بعض دفعہ موت کا وقت آیا ہوتا ہے ، دوائی اثر ہی نہیں کرتی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی اعمال کا نتیجہ اللہ تعالیٰ نے پوشیدہ رکھا ہے اور تدبیر کے ساتھ ایک اور حجز لگائی ہے جس کا نام شریعت نے تقدیر رکھا ہے جو انسانی تدبیر کے ساتھ ساتھ کام کرتی ہے۔بسا اوقات انسان کوئی کام کرتا ہے تو نتیجہ اس کی امید کے خلاف نکلتا ہے اور بسا اوقات اس کی امید کے خلاف اچھا نکل آتا ہے۔کبھی کوشش کرتا ہے تو اسے وہ چیز مل جاتی ہے اور کبھی کوشش کرتا ہے تو نہیں ملتی۔جسے دیکھ کر عقل حیران رہ جاتی ہے۔بعض اوقات کوئی امید نہیں ہوتی مگر نتیجہ موافق نکل آتا ہے۔مثلاً کسی کا کوئی مقدمہ عین آخری منزل میں ہوتا ہے اور اسکے خلاف فیصلہ ہونے والا ہوتا ہے کہ ادھر سے مجسٹریٹ کی