خطبات محمود (جلد 24) — Page 177
خطبات محمود 177 $1943 کے پورا ہونے پر میں اللہ تعالیٰ کا بے انتہاء شکر یہ ادا کرتاہوں۔میری اس آمد اور میرے اس خطبہ کے ارادہ سے بہت سے دوستوں کو یہ غلط فہمی ہوئی ہے کہ اب میں پوری طرح کام کرنے کے قابل ہو گیا ہوں۔چنانچہ قادیان میں آتے ہی نکاحوں کے پڑھانے کی متواتر درخواستیں آنی شروع ہو گئیں حالانکہ میں جو یہ خطبہ پڑھ رہا ہوں اپنی صحت اور ڈاکٹروں کی رائے کے بالکل خلاف پڑھ رہا ہوں اور حقیقت یہ ہے کہ اس بیماری کے ایام میں بعض اوقات میں نے بڑے بڑے لمبے عرصہ تک دعائیں کی ہیں کہ مجھے ایک دفعہ اپنے بعض خیالات کے تحریری طور پر یا تقریری طور پر بیان کرنے کا موقع مل جائے بلکہ بعض وقت ایسے بھی آئے ہیں کہ مجھے چند الفاظ کے تحریر کرنے کی بھی توفیق نہیں تھی۔اور اس وقت یہ خیال کرتے ہوئے کہ شاید بیماری کا حملہ زیادہ ہو کر میں اس قابل بھی نہ رہوں میں نے اپنی وصیت لکھ کر محفوظ کر دی تھی۔مجھ میں اتنی طاقت تو ابھی نہیں کہ میں اپنے خیالات کو مسلسل طور پر اور اپنی خواہش کے مطابق بیان کر سکوں۔لیکن میں بعض باتیں اس موقع پر کہہ دینا چاہتا ہوں۔اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی تو دوسرے موقع پر اور دوسری باتوں کو بیان کر سکوں گا۔جہاں تک سلسلہ کی تنظیم کا تعلق ہے اور جہاں تک شریعت کے احکام کے نفاذ کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں میرے ہی زمانہ خلافت میں یہ انتظام جاری ہوا ہے اور مجھے اپنی زندگی میں بارہا یہ بات سننے کا موقع ملا ہے کہ تم کو اس مصیبت میں پڑنے کی کیا ضرورت ہے کیوں نہ تم لوگوں کو صرف نصیحت کرنے پر ہی اکتفاء کرو اور شریعت کے احکام کے نفاذ کے لئے کسی سزا یا کسی اصلاحی تدبیر کے فکر میں مبتلا نہ ہو۔میرے کانوں میں مختلف وقتوں میں یہ آوازیں بھی آئی ہیں کہ یہاں ظلم کیا جاتا ہے اور شریعت کے احکام کے توڑنے پر لوگوں کو سزائیں دی جاتی ہیں حالانکہ یہ کام انگریزی قانون کا ہے۔ان کو اس میں دخل دینے کی ضرورت نہیں۔بعض دفعہ میرے کانوں میں یہ آواز بھی آئی ہے کہ گو شریعت کے احکام کے توڑنے پر یہ سزا تو دے سکتے ہیں لیکن جو سزا دی جاتی ہے اس میں سختی سے کام لیا جاتا ہے۔جب انسان موت کے قریب ہوتا ہے تو اس کے اعمال اس کی آنکھوں کے سامنے پھرنے شروع ہو جاتے ہیں۔جوں جوں