خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 178 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 178

* 1943 178 خطبات محمود میری حالت کمزور ہوتی گئی یہ سارے واقعات اپنی زندگی کے واقعات بھی اور وہ نقطہ نگاہ جو دوسروں نے میرے اعمال کے متعلق اختیار کیا یا سمجھا وہ بھی۔سب ایک ایک کر کے میری آنکھوں کے سامنے آنے شروع ہو گئے اور میں نے اپنے نفس سے پوچھا کہ میں نے یہ جو کچھ کیا ہے کیا اس وقت جبکہ میں ظاہری حالات کے لحاظ سے موت کے قریب پہنچ چکا ہوں اور اپنے خدا کے سامنے جواب دینے کے لئے جا رہا ہوں یہ سمجھتا ہوں کہ سلسلہ میں اسلامی احکام کے نفاذ کے خیال سے جو کچھ میں نے کیا ہے اس میں کسی قسم کی غلطی نہیں کی یا اس وقت میں سمجھتا ہوں کہ میں نے جماعت کے لوگوں سے سختی کا معاملہ کیا ہے؟ مگر باوجود اس کے کہ میں اس وقت اپنے آپ کو زندگی سے موت کے بہت زیادہ قریب سمجھتا تھا، میرے نفس نے ایک منٹ کے لئے بھی مجھے ملامت نہیں کی۔اور میں نے ان سارے امور کا جائزہ لیتے ہوئے یہی فیصلہ کیا کہ اگر مجھے دوبارہ جوانی کی عمر دی جائے اور دوبارہ مجھے اتنا ہی عرصہ خلافت کرنے کے لئے دیا جائے تب بھی میں وہی کام کروں گا جو اس بارہ میں گزشتہ 26 سال میں کرتا رہا ہوں۔میں نے اپنے نفس کو باوجود اس کے ہزاروں، لاکھوں بلکہ ان گنت گناہوں کے اس بارہ میں اتنا طاقت ور محسوس کیا کہ میں نے سمجھا میں خدا کے عرش کے سامنے کھڑے ہو کر اس بارہ میں ہر گز شر مندہ نہیں ہوں گا۔میں نے جو کچھ کیا اسلام اور سلسلہ کی عظمت کے لئے کیا ہے۔اور جو کچھ کیا ہے ان لوگوں کی بھلائی کے لئے کیا ہے جن کو سزائیں دینے کا مجھے موقع ملا۔اور میرے نفس نے مجھے یہی جواب دیا کہ اس بارہ میں ندامت ان لوگوں کے دلوں میں پیدا ہونی چاہیے جن کو سزائیں دی گئی ہیں نہ کہ میرے دل میں کیونکہ میں نے اپنا قدم کبھی شریعت سے آگے نہیں بڑھایا۔میں نے کبھی کوئی ایسی سزا نہیں دی جو میرے نزدیک شریعت کے منشاء کے خلاف ہو اور نہ کبھی کسی کو میں نے اس لئے سزادی ہے کہ اس کی طرف سے میرے نفس کو یا میرے مال یا جان کو نقصان پہنچا ہے۔ہر سزا جو میں نے دی خدا تعالیٰ کی عزت، اسلام کی عزت، قرآن کریم کی عزت ، محمد صلی اللہ علم کی عزت، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی عزت اور احمدیت کی عزت کے لئے دی۔اور ہر وہ کام جس میں خدا اور اس کے رسولوں اور اس کے دین کی عظمت کا سوال ہو وہ کسی صورت میں بھی ایک مومن کے لئے ندامت اور