خطبات محمود (جلد 24) — Page 138
$1943 138 خطبات محمود کھلا دوں اور میں اور تم دونوں فاقہ کریں۔انہوں نے کہا چلو جہاں ہم فاقہ کریں گے وہاں آج ہمارے بچے بھی فاقہ کر لیں گے۔ایک مہمان رسول کریم صلی علیم نے میرے سپرد فرمایا ہے اور اسے بہر حال کھانا کھلانا ہے۔بیوی کہنے لگی بہت اچھا۔بچوں کو میں کسی بہانے سلا دوں گی اور یہ روٹی ہم اسے کھلا دیں گے۔وہ صحابی کہنے لگے بات تو ٹھیک ہے مگر ایک مشکل ابھی باقی ہے اور وہ یہ کہ ہمارا مہمان الگ روٹی نہیں کھائے گا۔اگر اسے الگ روٹی دی گئی تو اسے پتہ لگ جائے گا کہ ہم نے اپنی روٹی اسے دے دی ہے اور شاید اس وجہ سے وہ خود بھی نہ کھائے۔اس کے ازالہ کی کوئی صورت ہونی چاہیئے۔بیوی کہنے لگی تم اس کا بھی فکر نہ کرو۔بچوں کو میں کسی طرح سُلا دوں گی اور ہم خود مہمان کے ساتھ کھانا کھانے کے لئے بیٹھ جائیں گے۔جب ہم بیٹھ جائیں تو مجھے کہنا کہ روشنی درست نہیں، بھی اونچی کر دو۔میں بٹی کو اونچا کرنے کے بہانے سے اس کے گل کو ہاتھ کی انگلیوں سے اس طرح پکڑوں گی کہ وہ بُجھ جائے گا۔تم نے کہنا کہ کسی ہمسایہ کے گھر سے روشنی لاؤ اور میں یہ کہوں گی کہ ہمسائیوں کو اس وقت تکلیف دینے کی کیا ضرورت ہے اندھیرے میں ہی روٹی کھالو اور مہمان بھی قدر تا یہی کہے گا کہ تکلیف کرنے کی کیا ضرورت ہے میں اندھیرے میں ہی کھالیتا ہوں۔اس کے بعد میں اور آپ دونوں اس کے ساتھ بیٹھ جائیں گے ( پردے کا حکم اس وقت تک نازل نہیں ہوا تھا) اور خالی مچا کے مارتے چلے جائیں گے۔یعنی کھانے کی آواز منہ سے نکالتے جائیں گے۔مہمان یہ سمجھے گا کہ ہم اس کے ساتھ روٹی کھا رہے ہیں۔اور اس طرح ہم اپنا کھانا مہمان کو کھلا دیں گے۔چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔بچوں کو سُلا دیا اور جب کھانا کھانے کے لئے سب دستر خوان پر بیٹھے تو اس صحابی نے اپنی بیوی سے کہا کہ روشنی مدھم ہے ذرا د یے کی بھی تو اونچی کر دو۔وہ اٹھی اور اس نے دونوں انگلیوں سے پکڑ کر اس کے گل کو جو کھینچاتو وہ بجھ گیا۔خاوند کہنے لگا اب اندھیرے میں ہم روٹی کس طرح کھائیں جاؤ کسی ہمسایہ سے روشنی لے آؤ۔بیوی کہنے لگی اس وقت ہمسائیوں کو تکلیف ہو گی آپ اندھیرے میں ہی روٹی کھا لیں۔مہمان بھی بول اٹھا کہ روشنی کی کوئی ضرورت نہیں میں اندھیرے میں ہی روٹی کھالوں گا۔چنانچہ دونوں میاں بیوی اس کے ساتھ بیٹھ گئے اور اندھیرے میں انہوں نے زور زور سے مچا کے مارنے شروع کر دیئے۔مہمان نے سمجھا