خطبات محمود (جلد 24) — Page 139
$1943 139 خطبات محمود کہ یہ بھی میرے ساتھ کھا رہے ہیں۔مگر دراصل وہ کھا نہیں رہے تھے۔جب مہمان کھانے سے فارغ ہوا تو انہوں نے دستر خوان اٹھایا اور سو گئے۔جب صبح وہ صحابی رسول کریم صلی یہ نیم کی الله سة خدمت میں حاضر ہوئے تو رسول کریم صلی للی یکم نے انہیں دیکھتے ہی فرمایا۔رات کو تم نے اپنے مہمان سے کیا کیا۔وہ ڈرے کہ معلوم نہیں کوئی ایسی بات ہو گئی ہو جو رسول کریم ملی ای کم کی ناراضگی کا موجب ہوئی ہو۔یہ دیکھ کر رسول کریم صلی لی کم بنے اور فرمایا آج رات تم میاں بیوی نے ایسی حرکت کی ہے جسے دیکھ کر خدا بھی عرش پر ہنس پڑا۔پھر آپ نے فرمایا مجھے اللہ تعالیٰ نے الہام سے تمہارا سب واقعہ بتا دیا ہے۔1 اب دیکھو ہزاروں دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ انسان کو فاقہ برداشت کرنا پڑتا ہے۔غرباء پر ہی نہیں بڑے بڑے امراء پر بھی بعض دفعہ یہ حالت آجاتی ہے۔وہ جنگلوں میں جاتے ہیں تو وہاں انہیں کھانے کے لئے روٹی تک میسر نہیں آتی۔ایسی صورت میں بادشاہوں پر بھی فاقہ آ جاتا ہے۔وزیروں پر بھی فاقہ آجاتا ہے۔کمانڈر انچیف پر بھی فاقہ آ جاتا ہے۔پھر گھروں میں بعض دفعہ فاقہ کرنا پڑتا ہے۔عیاش امراء جن کے دستر خوان پر بیسیوں کھانے ہوتے ہیں ان کو مستی کرتے ہوئے عام طور پر گھروں میں ایک ہی کھانا تیار ہوتا ہے اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ سالن میں نمک زیادہ ہوتا ہے یا مرچیں زیادہ ہوتی ہیں اور انسان کھانا نہیں کھاتا بلکہ فاقہ کر لیتا ہے یارو کھی روٹی کھالیتا ہے اور سالن استعمال نہیں کرتا۔بہر حال یہ حالتیں انسان پر گزر جاتی ہیں اور بلاوجہ گزر جاتی ہیں۔پھر اگر انسان کو خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے کبھی فاقہ کرنا پڑے تو اس میں مشکل یا نا قابل عمل کون سی بات ہے۔در حقیقت انسان کی طبیعت میں بخل ہوتا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ شاید اگر میں نے دوسروں کے لئے فاقہ کیا تو مجھے روزانہ ایسا کرنا پڑے گا حالانکہ روزانہ ایسا نہیں کرنا پڑتا بلکہ کبھی کبھی کرنا پڑتا ہے۔اگر ایک شخص کا ہمسایہ بھوکا ہے تو وہ اسے روٹی کھلانے کے لئے ایک دن کا فاقہ کر سکتا ہے مگر دوسرے دن اس کے لئے فاقہ کرنا ضروری نہیں۔دوسرے دن اس کا دوسرا ہمسایہ فاقہ کر سکتا ہے۔تیسرے دن تیسرا اور چوتھے دن چو تھا۔پھر اگر محلے میں ہیں پچیس اور بھی گھر ہوں اور وہ سب ایک ایک دن کا فاقہ کریں تو مہینہ میں ہر شخص کو صرف ایک دن فاقہ کرنا پڑے گا اور یہ کوئی مشکل چیز