خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 137 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 137

خطبات محمود 137 * 1943 کہ وہ خود تو کھائے لیکن اس کا ہمسایہ بھوکا ر ہے۔اگر اس کے پاس صرف دو روٹیاں ہیں تو وہ ایک روٹی پر خود گزارہ کرتا اور ایک اپنے بھوکے ہمسایہ کو دے دیتا ہے۔تو وہ بھی ایسا ثواب حاصل کر لیتا ہے جو دوسرے دنوں میں اسے میسر نہیں آسکتا۔یہی مواقع ایمان کی آزمائش کے ہوتے ہیں، یہی وہ مواقع ہوتے ہیں جب اللہ تعالیٰ انسان کے دس دس، بیں ہیں، تھیں تیں، چالیس چالیس سال کے گناہوں کو ایک ابتلاء کے ذریعہ معاف کر دیتا ہے۔انسان گناہ کرتا ہے اور کرتا چلا جاتا ہے۔ایک سال نہیں، دو سال نہیں، متواتر تیس چالیس سال تک وہ گناہ کرتا چلا جاتا ہے اور اس کے گناہوں کا خدا تعالیٰ کے پاس ایک کافی ذخیرہ ہو جاتا ہے تب اللہ تعالیٰ اس پر ایک ابتلاء وارد کرتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ اگر میرا بندہ اس ابتلاء میں کامیاب ہو گیا تو میں اس کے سارے گناہ معاف کر دوں گا۔پس وہ ابتلاء در حقیقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک رحمت کا دروازہ ہوتا ہے مگر اسی موقع پر بہت سے لوگ بجائے پاس ہونے کے فیل ہو جاتے ہیں۔تب اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں سے فرماتا ہے ہم نے تو اپنے اس بندے کے دس ہیں سال کے گناہ معاف کرنے کا ایک راستہ نکالا تھا مگر اس نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔اب جاؤ اور اس سزا میں اس کے گناہوں کو دگنا کر دو۔رسول کریم صلی ایم کی ایک حدیث ہے۔آپ کے پاس مہمان آتے۔مہمان خانہ آپ کے پاس کوئی تھا نہیں۔آپ تمام مہمان صحابہ میں تقسیم کر دیتے کہ وہ انہیں اپنے اپنے گھر لے جائیں اور کھانا کھلائیں۔آپ کا طریق یہ تھا کہ جب مہمان آتے تو آپ مسجد میں اعلان فرما دیتے کہ اتنے مہمان آئے ہوئے ہیں ان کو کون کون شخص اپنے گھر لے جائے گا۔ایک کہتا یا رسول اللہ ! مجھے دو مہمان دے دیجئے۔دوسرا کہتا یا رسول اللہ ! مجھے تین مہمان دے دیجئے۔یہی اس وقت کا لنگر خانہ اور یہی مہمان خانہ تھا۔اکثر دفعہ رسول کریم صلی ال کی بھی بعض مہمانوں کو اپنے ساتھ لے جاتے تھے۔ایک دفعہ ایک مہمان آیا اور رسول کریم صلی ا ہم نے اعلان فرمایا کہ کون اس مہمان کو اپنے گھر لے جائے گا۔ایک صحابی کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا یارسول اللہ ! مجھے دے دیجئے۔چنانچہ وہ اس مہمان کو ساتھ لے کر گھر پہنچے اور بیوی سے پوچھا کہ کیا گھر میں کچھ کھانا ہے۔اس نے کہا صرف ایک روٹی ہے۔میرا ارادہ تھا کہ یہ روٹی بچوں کو