خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 91 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 91

$1943 91 خطبات محمود بڑا بنتا ہے۔اور دوسرا کہتا ہے کہ مجھے ان فرعونوں کی پرواہ نہیں۔میں نے تجھ سے ہی مانگنا ہے۔تیرے ہوتے ہوئے مجھے کسی اور سے کیا ڈر ہو سکتا ہے۔مگر سلام پھیرنے کے بعد ہر ڈیوڑھی پر جا کر ناک رگڑتا ہے۔حالانکہ نماز کے اندر کہہ رہا تھا کہ میں نے تو اے خدا تجھ سے ہی مانگنا ہے۔میں نے کسی اور کے پاس جانا ہی نہیں، نہ مجھے کسی کی پرواہ ہے۔ایک دفعہ تیرے ساتھ جو تعلق جوڑ لیا تو بھلا اب میں کسی کو کیا جانوں اور ادھر مسجد سے نکلتے ہی آوازیں دینی شروع کرتا ہے کہ اے چوہدری جی تسیں ای میری مدد کرو۔اے مولوی جی تسیں ہی میری کہانی سن لو۔غرض ہر جگہ سے مددمانگتا پھرتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس جیسا ذلیل دنیا میں کوئی نہیں۔پھر دوسری اذان ہوتی ہے۔یہ پھر مسجد میں آتا ہے اور خدا کے آگے کھڑے ہو کر عرض کرتا ہے کہ میں نے کسی سے نہیں مانگنا۔اگر مانگنا ہے تو تجھ سے۔تیسرے سوا بھلا میں جا کہاں سکتا ہوں۔پھر نماز سے علیحدہ ہوتا ہے تو تم اس نالائق کو دیکھتے ہو کہ کس طرح ہر دروازے پر جا کر مانگتا پھرتا ہے۔اگر اس کے اندر ذرا بھی وفا ہوتی ، اگر وہ واقع میں سمجھتا کہ اس کا خدا موجود ہے تو اسے اس طرح مانگنے کی کیا ضرورت تھی۔ایک کمزور ایمان والے کا مانگنا جس کے اندر طاقت نہیں اور رنگ رکھتا ہے۔وہ تو نر گدا کی طرح ہوتا ہے کہ اگر اسے مل جائے تو خیر ورنہ خدا پر توکل کر کے آگے چلا جاتا ہے۔مگر یہ بالکل جھوٹ بولتا ہے اور خدا سے مانگنے کا اقرار کر کے ہر ایک کے سامنے لجاجت کرتا ہے اور ہر بندے کو خدا سمجھتا ہے۔کیا یہ عجیب تماشہ نہیں کہ ظالم اور مظلوم دونوں جھوٹ سے کام لے رہے ہیں۔ایک خدا کے سامنے جا کر کہتا ہے کہ میرے جیسا ذلیل دنیا میں کوئی نہیں۔میرے جیسا نکما دنیا میں کوئی نہیں اور جب باہر نکلتا ہے تو طرح طرح کے ظلم و ستم سے کام لینا شروع کر دیتا ہے۔دوسرا کہتا ہے مجھے کسی ظالم کی کیا پرواہ ہے میں کب کسی سے ڈرتا ہوں۔جب تیرے جیسار حیم و کریم خدا میرے سامنے ہو تو مجھے کس کا خوف ہو سکتا ہے۔بھلا میں کسی سے ڈرتا ہوں؟ مجھے پتہ ہے کہ جو مجھے مارنا چاہے گا تو اسے مار دے گا اور جو مجھے ذلیل کرنا چاہے گا تو اسے ذلیل کرے گا۔میں تیرا دروازہ چھوڑ کر کہاں جا سکتا ہوں؟ مگر جس طرح پہلا شخص نماز کے بعد ظلم کو شیوہ بنالیتا ہے