خطبات محمود (جلد 24) — Page 90
$1943 90 خطبات محمود اور کہتا ہے کہ خدایا یہ جو تیرا بندہ بنتا تھا بالکل جھوٹ کہتا تھا۔تیرے سامنے تو کہتا تھا کہ میں نے کسی پر ظلم نہیں کرنا، میں نے کسی کا حق نہیں دبانا مگر باہر جاکر ڈنڈا لے کر کھڑا ہو جاتا ہے اور ہم پر ظلم کرتا ہے اور ہمارے مالوں کو ناجائز طور پر دباتا ہے۔یہ تو تیرے سامنے جھوٹ بول گیا مگر ہم سچ کہتے ہیں کہ ہم تجھ سے ہی مدد مانگیں گے اور کسی کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائیں گے۔لیکن ظالم تو یہ کہہ کر کہ میں تیر اغلام ہوں، ذلیل ہوں، کسی کو کیا کہہ سکتا ہوں، جھوٹ بول گیا اور یہ مظلوم بن کر جھوٹ بول گیا کیونکہ ادھر تو خدا تعالیٰ کے سامنے کہا کہ میں نے تجھ سے ہی مانگنا ہے اور پھر سلام پھیرتے ہی بندوں کے آگے ہاتھ جوڑنے شروع کر دیتا ہے کہ حضور ہمارے مائی باپ ہیں، حضور ہی مدد کر سکتے ہیں۔اگر اس کا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنا صحیح ہے تو پھر یہ گھبراتا کیوں ہے۔اگر واقع میں خدا ہے تو وہ ضرور اس کی مدد کرے گا۔بندوں سے کس لئے مدد مانگتا پھرتا ہے۔بہر حال اس کا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہنا تبھی صحیح ہو سکتا ہے جب دوسرے بندوں سے ذلت آمیز مدد نہ مانگے۔ہاں تعاون والی مدد مانگے تو یہ درست ہو گا۔یہ نہ ہو کہ انسانی کوشش پر ہی سارا انحصار رکھے۔ایک شخص جب کسی سے سفارش کرانا چاہتا ہے اور اسی سفارش پر سارا انحصار رکھتا ہے تو اس کی یہی وجہ ہوتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ اگر اس کی سفارش نہ ہوئی تو وہ کہیں کا بھی نہ رہے گا۔حالانکہ جب ایسا شخص نماز میں کہتا ہے کہ مجھے کسی کی پرواہ نہیں تو فارغ ہو کر کیوں ہر دروازے پر ماتھا رگڑتا ہے اور منتیں کرتا پھرتا ہے کہ مجھ پر فلاں مصیبت ہے میری مدد کرو۔غرض ایک طرف تو ظالم کہتا ہے کہ میرے جیسا ذلیل کوئی نہیں اور میرے جیسا غلام کوئی نہیں لیکن نکلتے ہی یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس جیسا نمرود کوئی نہیں۔اس جیسا شداد کوئی نہیں۔دوسری طرف یہ مظلوم کہتا ہے کہ میں نے تو کسی سے مدد نہیں مانگنی تجھ سے ہی مانگنی ہے۔اور پھر نکلتے ہی ہر ایک کے آگے ناک گھساتا ہے۔حیرت آتی ہے کہ کس طرح دونوں فریق جھوٹ بولتے چلے جاتے ہیں۔پہلا ايَّاكَ نَعْبُدُ کہتا ہے اور ہر ایک پر ظلم کرنے پر تلا رہتا ہے اور دوسرا ايَّاكَ نَسْتَعِينُ کہہ کر ہر ایک سے مانگتا پھر تا ہے۔ایک دفعہ نہیں دو دفعہ نہیں بلکہ روزانہ پچاس دفعہ خدا کے سامنے کھڑے ہو کر عرض کرتا ہے کہ میں تیرا بندہ ہوں، میں تیر اغلام ہوں، مجھ سے ذلیل اور کوئی نہیں لیکن فارغ ہوتے ہی فرعون سے