خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 47

* 1943 47 خطبات محمود ہندوستانیوں میں ہی پائی جاتی ہے کہ وہ دنیا کے ہر جھگڑے میں دخل دینے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں۔جس کا اپنا کوئی گھر نہ ہو وہ ہر گھر کو اپنا گھر سمجھنے لگ جاتا ہے۔چونکہ ہندوستانیوں کا اپنا کوئی گھر نہیں اس لئے وہ ہر گھر کو اپنا گھر خیال کرنے لگ جاتے ہیں۔ترک کسی مشکل میں مبتلا ہوں تو ثر کی لوگ تو اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے ہوں گے مگر ایک ہند وستانی ملا یا سیاسی لیڈر کے ئمنہ میں ان کی حمایت میں تقریریں کرتے ہوئے جھاگ آ رہی ہو گی۔عرب کسی ابتلاء میں آئیں تو وہ تو اپنے گھروں میں آرام سے بیٹھے روٹی کھارہے ہوں گے اور ہندوستان کے مولوی سیج پر کو درہے ہوں گے کہ عرب کے لوگ بڑی مصیبت میں مبتلا ہیں ان کی مدد کی جائے۔یہی حال مصریوں کا ہے۔مصری اس بات پر غور کر رہے ہوتے ہیں کہ انگریزوں سے سمجھوتہ کر لیں اور ہندوستانی مولوی جس کے پاس تلوار چھوڑ ایک کوڑا تک نہیں ہو تاوہ سٹیج پر ناچ رہا ہو تا ہے اور کہتا ہے ہم اس معاملہ میں کسی صورت میں انگریزوں سے سمجھوتہ نہیں کر سکتے۔نحاس پاشا 1 غور کر رہا ہوتا ہے کہ وہ کس طرح سمجھوتہ کرے اور لاہور کا ایک مولوی جس کا ان امور سے نہ کوئی واسطہ ہوتا ہے، نہ تعلق اور جسے کوئی پوچھتا بھی نہیں وہ یونہی گود تا پھرتا ہے اور کہتا ہے سمجھوتہ ہر گز نہیں ہو گا۔تو یہ صرف ہندوستان ہی ہے جس نے اپنے اوپر ساری دنیا کی ذمہ داری سمجھ رکھی ہے۔باقی ممالک کی یہ حالت نہیں۔وہ اپنے حالات کو دیکھتے، غور کرتے اور ان سے نتائج اخذ کرتے ہیں اور پھر جیسا موقع ہو ویسا ہی کرتے ہیں۔مگر ہندوستان کا بے اصولا لیڈر یہ سمجھتا ہے کہ دنیا میں کوئی کام اس کے بغیر نہیں ہو سکتا۔صلح اس کے بغیر نہیں ہو سکتی، سمجھوتہ اس کے بغیر نہیں ہو سکتا، امن اس کے بغیر قائم نہیں ہو سکتا، ترقی اس کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔وہ سولہ آنے اپنی رائے کو درست سمجھتا اور اپنے بے اصولے پن کو صحیح طریق عمل قرار دیتا ہے۔حالانکہ نہ اسے کوئی اہمیت حاصل ہوتی ہے نہ اس نے دشمن کے پاس جانا ہوتا ہے نہ اس نے لڑائی کرنی ہوتی ہے اور نہ ہی اسے کوئی پوچھتا ہے۔مگر وہ گھر بیٹھے سولہ آنے اپنی رائے کو درست قرار دے رہا ہوتا ہے۔ترک بلغاریہ سے لڑتے ہیں اور پھر آپس میں صلح کی شرائط طے کرتے ہیں مگر یہ ہندوستانی گھر بیٹھے شور مچاتے چلے جائیں گے کہ ہم بلغاریوں کو مار ڈالیں گے، انہیں پیس ڈالیں گے اور کبھی ان سے صلح نہیں کریں گے۔