خطبات محمود (جلد 24) — Page 48
$1943 48 خطبات محمود حالانکہ یہ اپنے گھر میں بیٹھا ہوا ہے اور یہ دشمن پر تلوار اور گولی تو کیا مٹی کی ایک مٹھی بھی نہیں پھینک سکتا مگر شور مچانے میں سب سے آگے ہوتا ہے۔اس کے مقابلہ میں ترکوں کی یہ حالت ہے کہ جب ہندوستان میں غدر ہوا تو کہا جاتا ہے کہ انہوں نے انگریزی فوج کو اپنے علاقہ میں سے گزرنے کی اجازت دینے پر آمادگی ظاہر کر دی اور اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کی کہ یہ فوج ایک مسلمان ہندوستانی حکومت کے مقابلہ کے لئے جائے گی۔انہوں نے انگریزوں کو لکھ دیا کہ اگر انگریزی فوج کیپ ٹاؤن سے دیر میں پہنچے گی تو ہم اس فوج کے گزرنے کے لئے اپنے ملک سے رستہ دینے کے لئے تیار ہیں اسی طرح فلسطین اور شام میں مسلمانوں سے جو کچھ ہوتا ہے ترکوں کو اس کا ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ہندوستان میں چندے بھی ہوتے ہیں، لیکچر بھی ہوتے ہیں، اخباروں میں مضامین بھی لکھے جاتے ہیں مگر ترک جو اُن کے ہمسایہ ہیں ان کو کچھ بھی احساس نہیں ہو تا۔ممکن ہے ان کے دلوں میں کبھی ہمدردی کا کچھ جذ بہ بھی پید اہو تا ہو اور وہ کہہ دیتے ہوں کہ ہمیں ان تکالیف میں فلاں فلاں علاقہ کے مسلمانوں سے ہمدردی ہے مگر وہ جوش و خروش جو ہندوستان میں پایا جاتا ہے وہ ان میں نظر نہیں آتا۔تو یہ کوئی نئی بات نہیں۔ترک ہمیشہ سے ایسا کرتے چلے آئے ہیں۔اس لئے ان کا یہ جواب تعجب کا باعث نہیں ہو سکتا۔اسی طرح یہ سوال کہ اسلامی نقطہ نگاہ سے کیا ہونا چاہیئے میں اس کو بھی نہیں چھیڑ تا کیونکہ یہ باتیں موجودہ ماحول کو مد نظر رکھتے ہوئے کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔مثلاً اسلامی نقطہ نگاہ یہ ہے کہ دنیا کے تمام مسلمان ایک ہاتھ پر جمع ہوں۔جب وہ ایک ہاتھ پر جمع ہوں گے تو ایک دوسرے کی مدد کا سوال ہی پیدا نہیں ہو گا۔اب تو یہ حالت ہے کہ مصر کے مسلمان الگ ہیں ، شام کے الگ ہیں ، فلسطین کے الگ ہیں عرب کے الگ ہیں، ایران کے الگ ہیں، افغانستان کے الگ ہیں اور جب کسی جگہ کے مسلمانوں کو تکلیف پہنچتی ہے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ دوسرے مسلمان ان کی کیا مدد کریں گے لیکن جب ترک اور عرب اور ایران اور فارس سب ایک ہاتھ پر جمع ہو جائیں تو انہیں کہا جائے گا کہ الگ الگ مت رہو بلکہ اکٹھے ہو جاؤ۔اور جب وہ اکٹھے ہو جائیں گے تو یہ سوال ہی پیدا نہیں ہو گا کہ عرب ایران کی مدد کرتا ہے یا نہیں یا افغانستان ترکوں کی مدد کرتا ہے یا نہیں۔کیونکہ وہ سب ایک ہوں گے ، الگ الگ نہیں ہوں گے۔پس جو