خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 46

$1943 46 خطبات محمود چاہیے لیکن اگر ٹکرا جائیں تو ہم سیاسی عقیدہ کو مذہب پر مقدم رکھیں گے مگر اس قسم کا جھگڑا اور فساد اور کہیں نہیں۔ہندوستان میں چونکہ مختلف مذاہب پائے جاتے ہیں اور لوگ آپس میں مذہبی اختلاف کی وجہ سے لڑتے جھگڑتے ہیں اس لئے ہندوستان میں یہ محاورہ نظر آتا ہے کہ تم پہلے کیا ہو اور بعد میں کیا ہو۔بہر حال جب یہ الفاظ استعمال کئے جائیں گے تو ہندوستان میں اس کے اور معنی لئے جائیں گے اور بیرونی آدمی اس کا اور مفہوم لے گا۔وہ اگر کہے گا کہ میں پہلے ترک ہوں اور پھر مسلمان تو اس کا مقصد ان الفاظ سے صرف اتنا ہی ہو گا کہ اگر کوئی غیر ملکی جتھا صرف مذہب کی بنیاد پر بنانے کا سوال ہو تو پھر میں اس کا حامی ہوں گا یا نہیں۔یعنی اگر سارے مسلمان بلحاظ مسلمان ہونے کے قطع نظر اس سے کہ ان میں کس قدر اختلافات ہوں آپس میں اشتراک کرنا چاہیں تو ایسی صورت میں میں اپنے ملک کے مسلمانوں کے مفاد کا خیال رکھوں گا یا ان کے مفاد کو قربان کرتا ہوا باہر کے مسلمانوں سے اشتراک عمل کر لوں گا۔یہی احساس عیسائیوں میں بھی رہا ہے۔چنانچہ کروسیڈز (Crusades) یعنی صلیبی جنگیں اسی خیال کی بناء پر ہوئی ہیں۔پس میرے نزدیک جب ترکوں سے یہ پوچھا گیا کہ آپ پہلے مسلمان ہیں یا ترک اور اس کا جواب انہوں نے یہ دیا کہ ہم پہلے ترک ہیں اور پھر مسلمان۔تو اس کا مفہوم محض یہ تھا کہ ہمیں باقی مسلمان قوموں سے بے شک ہمدردی ہے لیکن اگر ہم کسی وقت دیکھیں گے کہ ہماری قوم کو نقصان پہنچنے والا ہے تو اس وقت ہم اپنی جان پہلے بچائیں گے اور دوسروں کا فکر بعد میں کریں گے۔یہ معنے نہیں تھے کہ ہم ترک نسل کو مقدم کریں گے اسلام کو مقدم نہیں کریں گے کیونکہ وہاں تو کوئی اختلاف ہے ہی نہیں۔سب لوگ مسلمان ہیں۔یہ اختلاف تو ہندوستان میں ہی پایا جاتا ہے کیونکہ یہاں مختلف مذاہب کے لوگ پائے جاتے ہیں۔ترک تو سب کے سب مسلمان کہلاتے ہیں۔اُن کا ذہن ان معنوں کی طرف جاہی کس طرح سکتا ہے کہ ہم قومیت کو مقدم کریں گے اور مذہب کو مؤخر کریں گے۔پس ان کا جواب سیاسی جواب ہے اور یہ سیاسی جواب نیا تو نہیں۔جب اُن میں خلافت قائم تھی اُس وقت بھی ان کی طرف سے یہی بات پیش کی جاتی تھی اور آج بھی یہی بات پیش کی جاتی ہے۔یہ عادت تو صرف