خطبات محمود (جلد 24) — Page 45
1943ء 45 خطبات محمود بہر حال اپنی سیاست اور قانون پر اخلاق کو حاوی کر لینے کا دستور ہم نے اس وقت تک کسی قوم میں نہیں دیکھا۔ باقی رہا نذہب، سو مذہب کے معاملہ میں انہوں نے جو کچھ کہا یا جو کچھ ان کے متعلق کہا جاتا ہے میرے نزدیک اس میں کچھ غلط فہمیاں ہیں اور کچھ غلطیاں۔ مثلاً کہا گیا ہے کہ تر کی وفد نے اس سوال کے جواب میں کہ آپ پہلے مسلمان ہیں یا ترک یا پہلے ترک ہیں اور پھر مسلمان۔ یہ کہا کہ ہم پہلے ترک ہیں اور بعد میں مسلمان ہیں۔ اس کے متعلق ہندو اخباروں نے بھی اور مسلمان اخباروں نے بھی اپنے اپنے خیالات ظاہر کئے ہیں۔ ہند و خوش ہیں کہ ترکوں نے فیصلہ کر دیا کہ قومیت پہلے ہے اور مذہب بعد میں۔ اسی طرح ہندوستان میں قومیت کو مقدم رکھنا چاہیے اور مذہب کو مؤخر سمجھنا چاہیئے۔ اور بعض نے اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ ترک مذہب سے بیزار ہیں۔ میرے نزدیک اس جواب کے سمجھنے میں کچھ غلط فہمی ہوئی ہے اور اگر تر کی وفد سے دوبارہ پوچھ لیا جائے تو میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی اس خیال کا اظہار کرے گا کہ ان کا جواب سمجھنے میں ہندوستان کے لوگوں سے غلطی ہوئی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بعض محاورے ایسے ہوتے ہیں جو خاص خاص ملکوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ محاورے ان ممالک کے رہنے والے لوگ تو سمجھتے ہیں لیکن انہی محاوروں کو اگر دوسرے ممالک کے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے تو وہ ان کو نہیں سمجھ سکتے۔ جس طرح ہر زبان میں بعض محاورے پائے جاتے ہیں اسی طرح بعض قوموں میں یہ دستور اور رواج پڑ جاتا ہے کہ وہ خاص قسم کے محاورات استعمال کرتے اور اُن سے خاص مفہوم مراد لیتے ہیں۔ یہ جو محاورہ ہے کہ میں پہلے کیا ہوں اور بعد میں کیا ہوں۔ یہ ہندوستان میں یہاں کی ضرورتوں کی وجہ سے ایجاد کر لیا گیا ہے۔ بیرونی ملکوں میں یہ محاورہ نہیں پایا جاتا اور اس محاورے کا کہ میں پہلے ہندوستانی ہوں اور بعد میں ہند و یا پہلے ہندو ہوں اور بعد میں ہندوستانی یا پہلے مسلمان ہوں اور بعد میں ہندوستانی یا پہلے ہندوستانی ہوں اور بعد میں مسلمان۔ مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر یہ دونوں چیزیں آپس میں ٹکرا جائیں تو پھر ہم کس کے پیچھے چلیں گے۔ جو لوگ مذہب کے دلدادہ ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اگر مذہب اور سیاست آپس میں ٹکرا جائے تو ہم مذہب کے پیچھے چلیں گے اور جو لوگ سیاسیات کے دلدادہ ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ مذہب کا سیاست کے ساتھ کیا تعلق ؟ اول تو ان دونوں کو ٹکرانا نہیں