خطبات محمود (جلد 24) — Page 243
1943ء 243 خطبات محمود حکومت کا کام سپرد کیا گیا ہے تو اس لئے نہیں کہ حکومت ان کا حق ہے بلکہ اس لئے کہ وہ حکومت کے دوسروں کی نسبت زیادہ اہل ہیں۔ پس ان کی حکومت اپنے اندر نیابتی رنگ رکھتی ہے۔ اور ہمارا فرض ہے کہ اگر کسی وقت وہ غافل ہو جائیں تو ہم ان کو بیدار کریں کیونکہ حکومت ہماری ہے۔ تو ایسی صورت میں وہ قوم زندہ رہتی ہے اور موت کا دن اس سے زیادہ سے زیادہ دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ عوام سست ہوں تو حکام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں اور حکام سست ہوں تو عوام ان پر نگرانی کے لئے موجود ہوتے ہیں۔ اسی نکتہ کو مد نظر رکھ کر میں نے جماعت میں خدام الاحمدیہ اور انصار الله دو الگ الگ جماعتیں قائم کیں۔ کیونکہ میں سمجھتا ہوں ایسا ہو سکتا ہے کہ کبھی حکومت کے افراد سست ہو جائیں اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ کبھی عوام سست ہو جائیں ۔ عوام کی غفلت اور ان کی نیند کو دور کرنے کے لئے جماعت میں ناظر وغیرہ موجود تھے۔ مگر چونکہ ایسا بھی ہو سکتا تھا کہ کبھی ناظر سست ہو جائیں اور وہ اپنے فرائض کو کما حقہ ادانہ کریں۔ اس لئے ان کی بیداری کے لئے بھی کوئی نہ کوئی جماعتی نظام ہونا چاہیے تھا۔ جو ان کی غفلت کو دور کرتا اور اس غفلت کا بدل جماعت کو مہیا کرنے والا ہو تا۔ چنانچہ خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ اسی نظام کی دو کڑیاں ہیں اور ان کو اسی لئے قائم کیا گیا ہے تا کہ وہ نظام کو بیدار رکھنے کا باعث ہوں۔ میں سمجھتا ہوں اگر عوام اور حکام دونوں اپنے اپنے فرائض کو سمجھیں تو جماعتی ترقی کے لئے خدا تعالیٰ کے فضل سے یہ ایک نہایت ہی مفید اور خوش کن لائحہ عمل ہو گا۔ اگر ایک طرف نظار تیں جو نظام کی قائمقام ہیں عوام کو بیدار کرتی رہیں اور دوسری طرف خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ اور لجنہ اماء اللہ جو عوام کے قائم مقام ہیں نظام کو بیدار کرتے رہیں تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ کسی وقت جماعت عت کلی طور پر گر جائے۔ اور اس کا قدم ترقی کی طرف اٹھنے سے رک جائے۔ جب بھی ایک غافل ہو گا دوسرا اسے جگانے کے لئے تیار ہو گا۔ جب بھی ایک سست ہو گا دوسرا اسے ہوشیار کرنے کے لئے آگے نکل آئے گا کیونکہ وہ دونوں ایک ایک حصہ کے نمائندہ ہیں۔ ایک نمائندہ ہیں نظام کے اور دوسرے نمائندہ ہیں عوام کے۔ بعض دفعہ اگر نظام کے نمائندے اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں غفلت اور کو تاہی سے کام لیں گے تو عوام کے نمائندے ان کو بیدار کر دیں گے۔