خطبات محمود (جلد 24) — Page 244
$1943 244 خطبات محمود اور جب عوام کے نمائندے غافل ہوں گے تو نظام کے نمائندے ان کی بیداری کا سامان پیدا کریں گے۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ اس وقت تک پورے طور پر اس حقیقت کو سمجھا نہیں گیا۔اور خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ میں وہ بیداری پیدا نہیں ہوئی جس بیداری کو پیدا کرنے کے لئے ان دونوں جماعتوں کو معرض وجود میں لایا گیا تھا۔خدام الاحمدیہ میں کسی قدر زیادہ بیداری ہے مگر انصار اللہ میں بیداری کے آثار بہت ہی کم دکھائی دیتے ہیں۔گزشتہ ایام میں مجھے ان کی بعض رپورٹوں سے یہ محسوس ہوا تھا کہ ان میں بیداری پید اہو رہی ہے۔مگر یہ کہ انہوں نے واقع میں کوئی ایسا کام بھی کیا ہے یا نہیں جس کی بناء پر انہیں بیدار سمجھا جا سکے اس کا ابھی تک مجھے کوئی ثبوت نہیں ملا۔حالانکہ کام کرنے والی جماعت تو جس جگہ موجود ہو وہاں اس کا وجود خود بخود نمایاں ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اور وہ کسی کو بتائے یانہ بتائے ہر شخص کو محسوس ہونے لگ جاتا ہے کہ یہاں کوئی زندہ اور کام کرنے والی جماعت موجود ہے اور در حقیقت کام کرنے والی جماعت کی علامت بھی یہی ہے کہ بغیر لوگوں کو بتائے اور ان کا علم دینے کے وہ خود بخود معلوم کر لیں کہ یہاں کوئی کام کرنے والی جماعت موجود ہے۔کیا تم نہیں دیکھتے کہ ایک پھڑ گھر میں آجائے تو کس طرح گھر کے ہر فرد کو معلوم ہو جاتا ہے کہ گھر کے اندر کوئی بھڑ آگئی ہے۔وہ کبھی ایک کی طرف ڈسنے کے لئے جاتی ہے اور کبھی دوسرے کی طرف ڈسنے کے لئے بڑھتی ہے اور گھر بھر میں شور مچ جاتا ہے کہ اس بھڑ کو مارو۔یہ کسی کو کاٹ نہ لے۔ایک شہد کی مکھی گھر میں آجائے تو چاروں طرف اس سے بچنے کے لئے پگڑیاں اور ہاتھ اور پنکھے اور رومال وغیرہ ہلنے لگ جاتے ہیں۔ایک پھول کسی گھر میں لگا ہوا ہو تو تمام گھر کے افراد کو اس کے وجود کا احساس ہو جاتا ہے۔اور ہر شخص کے ناک میں جب ہوا داخل ہوتی ہے وہ فوراً سمجھ جاتا ہے کہ اس گھر میں گلاب لگا ہوا ہے یا موتیا لگا ہوا ہے یا چنبیلی کا پودہ لگا ہوا ہے۔تو زندگی کے آثار ہونے ضروری ہیں۔ان آثار کے بغیر کوئی شخص زندہ نہیں کہلا سکتا۔چاہے بظاہر وہ زندہ ہی دکھائی دے۔جب کوئی شخص اس دنیا میں آتا ہے تو اسے دنیا میں اپنی زندگی کا کوئی ثبوت دینا چاہیئے۔اور ایسے نقوش چھوڑنے چاہئیں جن سے دنیا اس کی زندگی کا احساس کر سکے اور اسے معلوم ہو کہ اس دنیا میں فلاں شخص آیا تھا اور اس نے فلاں فلاں کام کیا۔