خطبات محمود (جلد 24) — Page 185
خطبات محمود 185 $1943 وہ کہتے ہیں کہ وہ عورت ہو گئے ہیں، وہ نمک کا ڈلا ہو گئے ہیں، پہاڑ ہو گئے ہیں۔لیکن کوئی اعتراض نہیں کرتا وہ اپنے دعویٰ کی وجہ سے کافر ہو گئے ہیں اور نہ وہ اپنے دعووں کی وجہ سے اسلامی حقوق سے محروم کئے جاتے ہیں۔لیکن اگر وہ پاگل قرار نہ دے سکیں تو پھر ان کے پاس ایک ہی چارہ ہے کہ وہ یہ کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو وحی ہوتی تھی وہ سچی تھی لیکن باوجود اس کے ہم نہیں مانتے۔جب وہ اس مقام پر پہنچیں گے تو لازماً ہمارا مقبرہ اور ہماری نمازیں ان سے جدا ہو جائیں گے۔الغرض ان کا اس قسم کا سوال اٹھانا ہی آپ اپنی تردید کرنا ہے۔باقی رہا مقبروں میں دفن ہونا تو میں تو ایک مسلمانوں کے مقبرے میں ایک عیسائی کا دفن ہونا بھی اگر اس کے لئے اور کوئی جگہ نہ ہو درست سمجھتا ہوں۔غیر احمدی یہ اعتراض کرتے ہیں کہ تم اپنے مقبروں میں غیر احمدیوں کو دفن نہیں ہوتے دیتے۔مجھے یاد نہیں کہ کوئی غیر احمدی مراہو اور اس کے دفن کرنے کی کوئی جگہ نہ ہو اور احمدیوں کی طرف سے اسے دفن ہونے سے روکا گیا ہو۔ہماری طرف سے جہاں دفن کرنے کی ممانعت ہے وہ بہشتی مقبرہ ہے۔لیکن وہاں تو ہر احمدی بھی دفن نہیں ہو سکتا۔ہمارے مقبرے میں اگر کسی کو دفن کرنے سے اس وقت روکا جائے جبکہ دوسرے کے پاس جگہ نہ ہو تو میں اسے ظلم کہوں گا۔قادیان میں اگر کوئی غیر احمدی مرے اور اس کے لئے جگہ نہ ہو تو میں لوگوں کو مجبور کروں گا کہ وہ اسے دفن کریں۔اگر ایک عیسائی مر جائے اور اس کے دفن ہونے کے لئے جگہ نہ ہو تو میرے نزدیک اس کے لئے جگہ کا انتظام کرنا اور اس کو دفن کرنے کا انتظام کرنا بھی ہماری جماعت کا فرض ہو گا۔اگر ایسا کرنا ان کی طاقت میں ہو۔لطیفہ یہ ہے کہ ایک زندہ ہمارے گھر میں آتا ہے۔ہمارے میز پر کھانا کھاتا ہے لیکن جب وہ زندگی سے جدا ہو جاتا ہے اور مر جاتا ہے تو کہتے ہیں کہ وہ مقبرے میں دفن نہیں ہو ، سکتا حالانکہ مقبرہ جنت کا نام نہیں۔مقبرہ نام ہے جسم کے دفن ہونے کی جگہ کا تاکہ اسے چیل نہ کھائے، کہتے نہ کھائیں۔روحانی مقبرہ اور ہوتا ہے۔غیر احمدیوں کے مقبرے میں کنچنی بھی دفن ہوتی ہے، چور بھی، ڈا کو بھی۔پس کسی کو مقبرے میں دفن ہونے سے روکنا درست نہیں۔کوئی غیر مذہب کا آدمی اگر اس کے پاس جگہ