خطبات محمود (جلد 24) — Page 186
$1943 186 خطبات محمود نہ ہو اور اس پر یہ حالت ہو کہ اس کو دفن کرنے کے لئے جگہ نہ ملے تو میں جماعت کو یہ اجازت نہیں دے سکتا کہ وہ اس کو دفن کرنے سے روکیں اور میں حکماً اس کو دفن کرواؤں گا۔ہاں قوم کا حق ہے کہ وہ شرارت کو روکے۔مثلاً قادیان کے مقبرے کے لئے غیر احمدیوں کے پاس جگہ ہے۔وہ وہاں دفن کر سکتے ہیں۔اگر وہ وہاں مردہ دفن نہ کریں تو یہ ان کی شرارت ہو گی۔پھر بعض دوسری جگہوں پر تو زمین پر کچھ خرچ بھی آتا ہے لیکن ڈلہوزی میں تو کچھ خرچ بھی نہیں ہوتا کیونکہ ان کو کمیٹی کی طرف سے مفت زمین ملی ہوئی ہے۔پس یہ جو واقعہ ہوا ہے انسانیت کے خلاف ہے۔اس سے ہماری جماعت کی آنکھیں بھی کھلنی چاہئیں اور تبلیغ کی طرف توجہ کرنی چاہیئے۔اس وقت ایک لاکھ کے قریب گورنمٹ کے اندازہ کے مطابق پنجاب میں جماعت ہے اور ہمارے اندازے کے مطابق تین چار لاکھ۔اگر ایک ایک آدمی ہر سال جماعت میں داخل کیا جاتا تو 11،10 سال کے اندر اند سارا پنجاب احمدیت میں داخل ہو جاتا۔جو لوگ تبلیغ کرتے ہیں وہ بے موقع بحث کرتے ہیں۔یہاں ایک سکھوں کے گرو آئے ہوئے ہیں۔انہوں نے میرے پاس شکایت کی ہے کہ ان کے پاس ہمارے نوجوان گئے اور انہوں نے ان سے بحث کی اور یہ کہ ان کا طریق بحث کرنے کا نہیں کیونکہ وہ صوفیوں کی طرف توجہ کرتے ہیں۔(وہ یہ کہتے ہیں کہ پہلے ہمارے اندر شامل ہو جاؤ پھر گرو تم کو اوپر لے جائیں گے۔) اس لئے ان کو شکایت ہے کہ احمدی نوجوانوں نے ان کے مذہب کو کوئی نیا مذ ہب سمجھا۔حالانکہ یہ بات نہ تھی۔وہ تو ایک صوفیا کی طرح فرقہ اپنے کو ظاہر کرتے ہیں۔ہماری جماعت کے ایک طبقہ کے اندر یہ بات پید اہو گئی ہے کہ وہ جا و بے جا بحث شروع کر دیتا ہے۔حالانکہ بحث مباحثہ تبلیغ نہیں۔تبلیغ تو ایک جذبہ کا نام ہے۔انسان سوچتا ہے کہ میرا بھائی جہنم میں جائے گا۔وہ اپیل کرتا ہے اچھے جذبات سے ، اچھے خیالات سے۔اس میں دکھ اور درد اور سیدھی سادی سچائی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا تھا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے بحث مباحثے سے روکا ہے۔1 اگر مباحثہ اچھی بات تھی تو روکا کیوں گیا۔ہاں اگر کوئی پیچھے پڑ جائے تو اور بات ہے۔پس اپنی بات سچائی کے ساتھ دکھ اور درد کے ساتھ پیش کریں۔ہماری آواز میں اور