خطبات محمود (جلد 24) — Page 184
$1943 184 خطبات محمود پڑھتے۔اگر احمدیوں کے مُردے ان کے مقبروں میں دفن نہیں ہو سکتے تو پھر ان کا یہ کہنا کہ ہمیں کافر کیوں کہتے ہو اپنی بات کی آپ ہی تردید کرنا ہے۔جو تعلیم یافتہ لوگ ہیں اگر وہ سمجھتے ہیں کہ ان کا یہ اعتراض حق ہے تو انہیں اپنی قوم کو مجبور کرنا چاہیے کہ احمدیوں کو اپنے مقبروں میں دفن کرنے سے نہ روکیں۔اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو وہ گویا اقرار کر لیں گے کہ جب وہ اعتراض کر رہے ہوتے ہیں تو کسی اصل کی پابندی نہیں کر رہے ہوتے۔اگر وہ اسی رویہ کو پھر بھی اختیار کریں تو ہمیں کہنا پڑے گا کہ ان کا عقیدہ معقولیت سے خالی ہے کیا ان میں سے کوئی بھی جو عقل سے کام لے رہا ہو یہ بات ذہن میں لا سکتا ہے کہ وہ مردہ جو زندہ ہونے کی حالت میں ان کے عقیدہ کے رو سے ان کے زندوں کے قابل تھا جب وہ مر گیا تو مر دوں کے پاس اسے اس واسطے دفن نہ ہونے دیا جائے کہ وہ مُردوں کو خراب کرے گا۔اگر وہ ایسا کہتے ہیں تو یہ ایک مجنونانہ خیال ہے۔وہ شاید ایک جواب دیں کہ تم ہمیں کافر کہتے ہو اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ تمہارے مُردے ہمارے قبرستانوں میں دفن نہیں ہو سکتے۔لیکن یہ بات بھی غلط ہے۔اول کفر کا فتویٰ ہماری طرف سے نہیں ان کی طرف سے شائع ہوا۔پس جن کے اندر دیانت ہے وہ بہ ثابت کریں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پہلے لکھا ہو کہ میں ان کو کافر قرار دیتا ہوں۔لیکن آج تک ایک انسان بھی ان میں سے نہیں نکلا جو یہ ثابت کر سکا ہو لیکن جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان پر ابتداء کرنے کا الزام لگایا ہے وہاں یہ بھی لکھا ہے کہ جو ان میں سے سچے طور پر یہ خیال رکھتے ہیں کہ مسلمانوں کو کافر نہیں کہنا چاہیئے ان کا فرض ہے کہ اس صورت میں ان علماء کے کافر ہونے کا نام بنام اعلان کریں جنہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اور آپ کی جماعت کو کافر قرار دیا ہے۔لیکن ساتھ ہی اس کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کا لازمی نتیجہ یہ قرار دیا ہے کہ اگر وہ ان کو کافر قرار دیں گے تو ان کو یہ مانا پڑے گا کہ میں مفتری نہیں۔کیونکہ افتراء کرنے والا کافر ہوتا ہے اس اعلان کے بعد اگر وہ مجھے نہ مانیں گے تو وہ خدا تعالیٰ کے کھلے نشانات کے منکر قرار پائیں گے اور ایک دوسری وجہ اپنے کفر کی پیدا کریں گے۔ہاں اس کے بعد ایک راہ ان کے لئے رہ جائے گی کہ وہ ثابت کریں کہ بانی سلسلہ احمد یہ پاگل تھے کیونکہ پاگل پر کفر کا فتویٰ نہیں لگتا۔کئی پاگل ہوتے ہیں