خطبات محمود (جلد 24) — Page 172
1943ء 172 خطبات محمود یہ حالات تکلیف کا موجب نہیں ہو سکتے کیونکہ وہ کہتا ہے میں تو پہلے ہی ان حالات کا عادی ہوں جیسے مومن کو دنیا مارنا چاہتی ہے تو وہ کہتا ہے مجھے مار کر کیا لو گے۔ میں تو پہلے ہی خدا کے لئے مرا ہوا ہوں۔ دنیا موت سے گھبراتی ہے مگر ایک مومن کو جب دنیا مارنا چاہتی ہے تو وہ کچھ بھی نہیں گھبراتا اور کہتا ہے میں تو اسی دن مر گیا تھا جس دن میں نے اسلام قبول کیا تھا۔ فرق صرف یہ ہے کہ آگے میں چلتا پھر تا مردہ تھا اور اب تم مجھے زمین کے نیچے دفن کر دو گے میرے لئے کوئی زیادہ فرق پیدا نہیں ہو گا۔ پس اگر لوگ اسلام کے احکام کے ماتحت اپنی زندگی بسر کرنے کی کوشش کریں تو وہ یقیناً اس قسم کے حالات کے مقابلہ کے لئے پہلے سے تیار رہیں اور اول تو تکلیفیں آئیں ہی نہ کیونکہ یہ تکلیفیں اسی لئے آتی ہیں کہ لوگ دوسروں کا حق غصب کر لیتے ہیں۔ اگر دنیا میں کوئی شخص دوسرے کے حق کو غصب نہ کرے تو اس قسم کی تکلیفیں کبھی نہ آئیں۔ پس اول تو ایسے حالات میں تکالیف آئیں ہی نہ اور اگر آجائیں تو سادہ زندگی کی وجہ سے لوگ اس بات کے عادی ہوں گے کہ تکالیف کو برداشت کر سکیں۔ اور اس وجہ سے باوجود تکلیف دہ ایام کے ان کو تکلیف کا کوئی احساس نہ ہو گا۔ جیسے آج کل ہم دیکھ رہے ہیں کہ یورپ کے لوگوں کے نزدیک جو مشکلات ہیں وہ ہمارے لئے روز مرہ زندگی کا مشغلہ ہیں۔ اور جن کو وہ آفتیں اور مصیبتیں خیال کرتے ہیں وہ ہمارے نزدیک راحت اور آرام ہیں۔ اس لئے ان تکلیفوں کا ہمیں پتہ تک نہیں لگتا۔ آخر لوگ آجکل کیا کہہ رہے ہیں۔ یہی کہہ رہے ہیں کہ بڑی مصیبت آگئی پہننے کے لئے اچھے کپڑے نہیں ملتے مگر ایک مومن کے لئے یہ چیز ذرا بھی پریشانی کا باعث نہیں ہو سکتی۔ تھوڑے ہی دن ہوئے بعض نے مجھ سے کہا کہ اب کپڑوں کا ملنا بھی مشکل ہو رہا ہے۔ میں نے کہا پھر کیا ہوا۔ مومن کی تو یہ حالت ہوتی ہے کہ اگر کپڑا مل جائے تو وہ پہن لیتا ہے نہ ملے تو نہ سہی، پرانے کپڑوں سے پیوند لگا کر ہی گزارہ کر لیتا ہے۔ پھر میں نے کہا رسول کریم صلی علیم اور آپ کے صحابہ کے کپڑوں کو پیوند لگے ہوا کرتے تھے۔ کیا ہم ان سے بڑے ہیں کہ اپنے کپڑوں کو پیوند نہ لگا سکیں بلکہ رسول کریم صلی الم کے زمانہ میں ایسے لوگ بھی تھے جن کے پاس کپڑے بہت کم ہوا کرتے تھے ، قمیص ہوتی تھی تو پاجامہ نہیں ہوتا تھا، پاجامہ ہو تا تھا تو رض