خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 171 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 171

$1943 171 خطبات محمود متعلق یہ سمجھتا تھا کہ یہ ایک نئی تحریک ہے اسی لئے میں اپنی بیوی کو بھی اپنے ساتھ لایا تھا۔میں نے کہا یہ آپ کی غلطی ہے یا ہماری غلطی ہے کہ ہم آپ کو صحیح طور پر سمجھا نہیں سکے۔ہماری تحریک تو در حقیقت پرانی ہے اور ہم تعلیم کے لحاظ سے تیرہ سو سال پیچھے جاتے ہیں۔تو تحریک جدید اس کا نام صرف اس لئے ہے کہ دنیا اس سے ناواقف ہو چکی تھی اور یہ ہماری بد قسمتی تھی کہ ہمیں ایک پرانی چیز کو نئی کہنا پڑا کیونکہ لوگ اس سے ناواقف ہو چکے تھے اور وہ جدید نہیں بلکہ قدیم ہے۔رسول کریم صلی الی یوم اور آپ کے صحابہ نے جس طرز پر زندگی بسر کی ہم تحریک جدید کے ذریعہ اسی کے قریب قریب لوگوں کو لانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آجکل دنیا کے حالات ایسے رنگ میں بدل چکے ہیں کہ ہم اپنی طرز زندگی کی بالکل وہی شکل نہیں بنا سکتے جو رسول کریم صلی یہ کم اور آپ کے صحابہ کے طرز زندگی کی شکل تھی مگر اس کے قریب قریب جس حد تک زمانہ کے حالات ہم کو اجازت دیتے ہیں ہم لوگوں کو لے جانے کی کوشش کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے اور یہی تحریک جدید کی غرض ہے۔پس ان ایام میں جبکہ خدا تعالیٰ نے جبر آساری دنیا میں تحریک جدید کو جاری کر دیا ہے میں دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ حالات جو رو نما ہو رہے ہیں ان کو دیکھو، غور کرو اور سمجھو کہ اسلام کی تعلیم کس قدر رحمت کا موجب ہے۔اگر ہمیشہ ہم اپنی زندگی رسول کریم صلی یم کے احکام کے مطابق سادہ رکھیں تو اس قسم کے حوادث ہمیں ذرا بھی تکلیف نہ پہنچا سکیں۔آج یورپ اور امریکہ کے لوگ چلا چلا کر کہہ رہے ہیں کہ ہم مر گئے۔مگر وہ جو اپنے متعلق یہ سمجھتے ہیں کہ وہ مر گئے ہم پہلے بھی ان سے کم کھا رہے تھے مگر باوجود اس کے ہمیں کوئی تکلیف نہ تھی اور آج بھی ان سے کم کھا رہے ہیں اور ہمیں کوئی تکلیف نہیں۔پس اگر ایسے واقعات ہم پر آ جائیں تو ہمارے لئے کیا تکلیف کا موجب ہو سکتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سنایا کرتے تھے کہ کوئی اندھا تھا جو رات کے وقت کسی دوسرے سے باتیں کر رہا تھا۔ایک اور شخص کی نیند خراب ہو رہی تھی۔وہ کہنے لگا حافظ جی سو جاؤ۔حافظ صاحب کہنے لگے ہمارا سونا کیا ہے چپ ہی ہو جانا ہے۔یہ کہ سونا آنکھیں بند کرنے اور خاموش ہو جانے کا نام ہو تا ہے۔میری آنکھیں تو پہلے ہی بند ہیں اب خاموش ہی ہو جانا ہے اور کیا ہے۔تو مومن کے لئے الله سة