خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 131 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 131

خطبات محمود 131 $1943 دور دور بھی ہیں اس لئے اگر چار ہزار ایکٹر زمین اس میں سے نکال دی جائے اور چار من فی ایکٹر کے حساب سے غلہ کی پیداوار کا اندازہ لگایا جائے تو بیس ہزار من غلہ بنتا ہے۔یہ چار من فی ایکڑ کا اندازہ اوسطا لگایا گیا ہے کیونکہ کسی کا تین من غلہ پیدا ہوتا ہے ، کسی کا چار من، کسی کا پانچ من، کسی کا چھ من، کسی کا سات اور کسی کا آٹھ من۔بہر حال میں ہزار من غلہ ایسے احمدیوں کا بنتا ہے جو اپنی ضرورت سے زائد غلہ آسانی کے ساتھ قادیان پہنچا سکتے ہیں۔اگر دس ہزار من غلہ وہ اپنی ضروریات کے لئے رکھ لیں تو دس ہزار من غلہ ایسارہ جاتا ہے جسے وہ باہر منڈی میں فروخت کیا کرتے ہیں۔مگر اس دفعہ میری طرف سے یہ ہدایت ہے کہ بجائے منڈی میں اپنا غلہ فروخت کرنے کے وہ جماعت کے پاس غلہ فروخت کریں۔منڈی کی قیمت روزانہ معلوم کر لیا کریں اور منڈی کا جو بھی بھاؤ ہو اس پر وہ جماعتی انتظام کے ماتحت قادیان میں اپنا غلہ لا کر فروخت کر دیں۔اس غرض کے لئے میں سب سے پہلے اپنے آپ کو پیش کرتا ہوں۔میرا جس قدر غلہ آئے گا اس میں سے سوائے اس غلہ کے جو گھر کی ضروریات کے لئے رکھ لیا جائے گا اور سوائے اس غلہ کے جس کا چندہ کے طور پر دینے کا میں پہلے اعلان کر چکا ہوں باقی سب غلہ میں اس کمیٹی کے سپر د کر دوں گا جو اس کام کے لئے مقرر ہو گی۔وہ منڈی کی قیمت معلوم کر کے مجھے دے دے اور غلہ اپنے پاس رکھ لے۔میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس طریق کو اختیار کرنے میں احمدی زمیندار کسی قسم کا حرج سمجھیں یا اس میں کسی قسم کی تکلیف محسوس کریں۔حقیقت تو یہ ہے کہ اس میں کسی تکلیف کا خیال تک بھی نہیں کیا جاسکتا۔انہوں نے بہر حال اپنا غلہ بیچنا ہے اور جب غلہ بیچنا ہے تو انہیں اس میں کیا فائدہ ہے کہ وہ کسی غیر کے پاس فروخت کریں۔وہی غلہ وہ احمدیوں کے پاس فروخت کر دیں اور منڈی کی قیمت لے لیں اور یہاں کے احمدیوں نے بھی جب غلہ خریدنا ہے تو انہیں اس میں کیا تکلیف ہے کہ وہ کسی غیر سے نہ خریدیں بلکہ احمدی زمینداروں سے ہی خریدیں۔پس ایک تو یہ تجویز ہے جس سے میں سمجھتا ہوں کہ دس بارہ ہزار من غلہ بغیر کسی نمبر اہٹ اور تکلیف کے اکٹھا ہو سکتا ہے۔گاہک موجود ہیں اور انہوں نے بہر حال اپنے لئے