خطبات محمود (جلد 24) — Page 132
$1943 132 خطبات محمود گندم خریدنی ہے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ وہ احمدی زمینداروں سے نہ خریدیں۔دوسری طرف احمدی زمیندار ہیں انہوں نے بہر حال گندم فروخت کرنی ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ وہ احمدیوں کے پاس فروخت نہ کریں۔اس کے لئے میں ایک کمیٹی تجویز کر دوں گا مگر میں یہ کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس غرض کے لئے جو کمیٹی بنائی جائے گی اسے یہ حق حاصل نہ ہو گا کہ وہ نفع حاصل کرے۔اس کا کام صرف یہ ہو گا کہ وہ غلہ فراہم کر کے جولاگت ہو اس پر لوگوں کو غلہ دے دے اور چونکہ بہت سے گاہک ہوں گے اس لئے کمیٹی کو یہ امر بھی مد نظر رکھنا چاہیئے کہ جو پہلے غلہ آئے وہ ان لوگوں میں فروخت کیا جائے جنہوں نے گندم کے لئے پہلے روپیہ جمع کرایا ہو اور جو بعد میں غلہ آئے وہ اسی ترتیب سے بعد کے گاہکوں کو دیا جائے۔اس کے لئے ایک طرف تو میں نظام جماعت کو توجہ دلا تا ہوں۔صدر انجمن احمدیہ کو چاہیے کہ وہ امانت میں سے قرض لے کر پندرہ بیس ہزار روپیہ اس مقصد کے لئے الگ کر لے تاکہ اس روپیہ کے ذریعہ ارد گرد کے احمدیوں سے ان کی ضرورت سے زائد غلہ خریدا جا سکے۔جو دوست اس انتظام کے ماتحت غلہ خریدنا چاہتے ہوں انہیں چاہیے کہ وہ اس کمیٹی کے پاس اپنا نام لکھوادیں۔ہم کسی کو روکتے نہیں۔اگر کوئی شخص یہ سمجھتا ہو کہ اپنے طور پر وہ زیادہ ستا غلہ خرید سکتا ہے تو وہ اپنے طور پر خرید لے۔ہم اسے منع نہیں کرتے۔مگر دوسرے تمام لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنے نام اس کمیٹی کے پاس لکھوا دیں۔جوں جوں غلہ آتا جائے گا دوستوں کو ملتا جائے گا مگر یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ جو لوگ اپنے نام پہلے لکھوائیں گے انہیں مقدم سمجھا جائے گا اور جو بعد میں لکھوائیں گے انہیں لازماً بعد میں غلہ ملے گا۔اس تقسیم میں تاریخ اور ترتیب کو مد نظر رکھا جائے گا۔جس ترتیب سے لوگوں نے اپنے نام لکھوائے ہوں گے اور ساتھ ہی روپیہ خزانہ صدر انجمن احمدیہ میں جمع کرایا ہو گا اسی ترتیب سے انہیں غلہ دیا جائے گا۔جب تک یہ کمیٹی تجویز نہیں ہوتی اس وقت تک دوستوں کو چاہیے کہ وہ دفتر پرائیویٹ سیکرٹری میں اپنے نام لکھوا دیں اور جتنے روپوں کی وہ گندم خریدنا چاہیں اس قدر روپیہ صدر انجمن احمدیہ کے خزانہ میں جمع کرا دیں۔میری دوسری تجویز یہ ہے کہ علاوہ احمدیوں کے جو دوسرے زمیندار ہیں ان سے بھی