خطبات محمود (جلد 24) — Page 130
$1943 130 خطبات محمود کی حرکات سے بھاؤ نا واجب طور پر بڑھ جایا کرتا ہے اور چونکہ گزشتہ سال کا تلخ تجربہ ہمارے سامنے ہے اس لئے آئندہ اس بد انتظامی کو روکنے کے لئے اور غلہ کی فراہمی کے لئے میں نے کچھ تجاویز سوچی ہیں جن کا آج میں اظہار کرتا ہوں۔چونکہ ان باتوں کا باہر کی جماعتوں سے عموماً اور ضلع گورداسپور کی جماعتوں سے خصوصاً تعلق ہے اس لئے میں ان تجاویز کو خطبہ جمعہ میں بیان کرتا ہوں۔میری ایک تجویز تو یہ ہے کہ قادیان اور اس کے ارد گرد آٹھ دس میل کے علاقہ کے اندر اندر رہنے والے احمدی زمیندار اپنا غلہ صرف احمدیوں کے پاس فروخت کریں اور کسی شخص کے پاس فروخت نہ کریں۔انہوں نے تو بہر حال اپنا غلہ فروخت کرنا ہے۔یہ ضروری نہیں کہ وہ رام ناتھ کے پاس فروخت کریں یا شود یال کے پاس۔پس میری تجویز یہ ہے کہ جس ضلع گورداسپور کی احمدی جماعتیں ہیں وہ اپنا غلہ صرف احمدیوں کے پاس فروخت کریں اور کسی کے ہاتھ فروخت نہ کریں۔اس غرض کے لئے صدر انجمن احمدیہ کو چاہیے کہ تمام جماعتوں سے یہ پوچھ لیا جائے کہ اپنی ضروریات کو پورا کر لینے کے بعد ان کے پاس کس قدر غلہ بچے گا۔پھر جس قدر غلہ باقی رہے اسے بجائے منڈیوں میں فروخت کرنے کے یا انفرادی رنگ میں زید بکر کے پاس بیچنے کے وہ جماعت کے پاس فروخت کریں۔اس طرح وہ بھا گڑ پیدا نہیں ہو گی جو گزشتہ سال پیدا ہوئی تھی۔اس وقت خدا تعالیٰ کے فضل سے گورداسپور کے ضلع میں تیس ہزار سے چالیس ہزار احمدی ہیں۔اگر ہم چار آدمیوں کا ایک خاندان تصور کر لیں تو دس ہزار مرد کمانے والے بنتے ہیں۔ان دس ہزار میں سے اگر ہم ایسے لوگ نکال دیں جو مزدور پیشہ ہیں یا ملازم ہیں یاز مینداری نہیں کرتے اور ہم یہ سمجھ لیں کہ دو حصے وہ لوگ ہیں تو 1/3 حصہ زمینداروں کا رہ جاتا ہے۔اور میرے نزدیک یہ اندازہ غلط نہیں۔اس سے زیادہ تو زمیندار ہو سکتے ہیں مگر کم نہیں۔اور 1/3 کے لحاظ سے میرے نزدیک تین ہزار کے قریب احمدیوں کا ہل ضلع گورداسپور میں چلتا ہے۔اگر ہر شخص کی زمین کی اوسط تین ایکڑ فرض کی جائے تو اس کے معنے یہ بنتے ہیں کہ سارے ضلع گورداسپور میں ہماری جماعت کے افراد 9 ہزار ایکڑ زمین کاشت کرتے ہیں۔اور چونکہ سارے گاؤں قادیان کے قریب نہیں بلکہ