خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 80 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 80

$1943 80 خطبات محمود رہتے تھے۔اس کا بھی اثر ہوتا ہے۔زید بھی پہلے ایمان لا چکے تھے جبکہ حضرت ابو بکر باہر ہی تھے مگر زید غلام تھا، آپ کے گھر میں رہتا۔غلام کھانے اور کپڑے کا محتاج ہوتا ہے ان کا ایمان محتاجوں والا ایمان تھا۔حضرت خدیجہ کا ایمان بیوی ہونے کی وجہ سے، حضرت علی کا بچے اور بھتیجا ہونے کے سبب اور زید کا نوکر ہونے کی حیثیت سے وہ درجہ نہیں رکھتا جیسا کہ حضرت ابو بکر کا۔کیونکہ جس شخص کا آزادی کا ایمان تھا، نہ کسی دنیاوی احسان کے سبب تھا اور نہ کسی چیز کی احتیاج تھی، وہ ابو بکر ہی تھا۔علماء میں بحث ہوتی ہے کہ ابو بکر پہلا مومن تھا؟ کوئی کہتا ہے کہ حضرت خدیجہ پہلے ایمان لائی تھیں۔کوئی کہتا ہے کہ حضرت علی ایمان لائے تھے مگر سچی بات یہی ہے کہ حضرت خدیجہ بیوی تھیں، حضرت علی بچہ تھے ، زید غلام تھا اور جب رسول کریم صلی الله ولم نے دعوی کیا حضرت ابو بکر گھر نہ تھے۔دوسرے تیسرے دن آئے۔اس لئے جوان، بالغ مردوں میں سے پہلا ایمان لانے والا ابو بکر ہی تھا۔عورتوں سے حضرت خدیجہ، بچوں سے حضرت علییؓ، نوکروں میں سے زید۔مگر اس لحاظ سے کہ جس پر کوئی حکومت نہ تھی، کوئی دبدبہ نہ تھا اور نہ کوئی احسان وغیرہ تھا وہ ابو بکر ہی تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے۔اسی لئے آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! مجھے اور ابو بکر کو کیوں نہیں چھوڑتے۔جب تم سب لوگ مجھے جھوٹا کہتے تھے جس نے کہا میں ایمان لایا وہ ابو بکر ہی تھا۔پھر ابو بکر کا تقویٰ دیکھو۔یہ خیال کر کے کہ حضرت رسول کریم صلی الی و کم حضرت عمرہ پر ناراض نہ ہوں اپنے بھائی کی سب غلطی بھول گئے اور اس کے غم کو اپنا غم سمجھتے ہوئے فورار سول کریم صلی ال نیم کے سامنے دو زانو ہو گئے اور عرض کیا نہیں یارسول اللہ ! غلطی میری تھی عمر کا قصور نہ تھا۔غرض جیسا کہ میں نے اوپر بتایا ہے کہ سچائی میں فائدہ ہوتا ہے۔رسول کریم صلی الی یم کو سچائی کا یہ فائدہ پہنچا کہ ابو بکر جیسا انسان سچائی کی وجہ سے آپ کو ملا۔پہلا شکار آپ کی تعلیم کا جو نشانات دیکھنے کی وجہ سے نہیں، دلیلوں کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اس بات سے ہوا تھا کہ انہوں نے حضرت رسول کریم صلی نیم کو دیکھا ہوا تھا کہ آپ جھوٹ نہیں بولتے۔اور باتوں کو جانے دو یہی دیکھو کہ سچائی کی وجہ سے آپ کو ایسا سچا دوست مل گیا کہ پھر کبھی کوئی ایسا موقع نہیں آیا کہ قربانی کا موقع ہو اور ابو بکر پیچھے رہے ہوں۔ہر موقع پر آپ نے اپنے آپ کو آگے ڈالا۔