خطبات محمود (جلد 24) — Page 79
$1943 79 خطبات محمود رض ایک دفعہ حضرت عمرؓ کی حضرت ابو بکر سے تکرار ہو گئی۔حضرت عمر جو شیلے آدمی تھے۔آپ نے ابو بکر سے کچھ سختی کی۔اس پر حضرت ابو بکر نے وہاں سے ٹلنا چاہا۔حضرت عمرؓ نے سمجھا کہ یہ درمیان میں بات چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں۔گو حضرت ابو بکر کا مطلب ان کا جوش ٹھنڈا کرنے کا تھا۔اس پر حضرت عمرؓ نے کہا کہاں جاتے ہو اور آگے بڑھ کر آپ کا کپڑا پکڑ لیا۔کپڑا پھٹ گیا مگر آپ چلتے گئے کہ عمر غصہ کی حالت میں ہے۔اب ان سے بات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔حضرت عمر نے سمجھا یہ میری شکایت کرنے حضرت رسول کریم صلی ال نیم کے پاس گئے ہیں اور ان کے دل میں یہ خیال پیدا ہوا کہ غلطی تو میری ہی ہے۔رسول کریم صلی الم ناراض ہوں گے۔میں بھی چلتا ہوں۔حضرت عمر وہاں پہنچے تو حضرت ابو بکر کو وہاں نہ پایا۔انہوں نے سمجھا شکایت کر کے واپس چلے گئے ہوں گے۔آپ نے حضرت رسول کریم کے پاس جا کر عرض کیا یا رسول اللہ ! میری غلطی تھی ابو بکر کا قصور نہ تھا بلکہ میر ا تھا۔جب وہ اپنے قصور کا اقرار کر رہے تھے تو اس وقت کسی نے دوڑ کر حضرت ابو بکر کو بتادیا کہ حضرت عمرؓ گئے ہیں۔شاید یہ واقعہ بیان کریں گے اور آپ کی شکایت کریں۔جس سے آپ کو بد ظنی پیدا ہو۔یہ سن کر حضرت ابو بکر بھی چل پڑے۔حضرت عمر وہاں سے اس خیال سے چلے تھے کہ رسول کریم صلی الیکم کو حضرت ابو بکر کی بات سن کر تکلیف نہ پہنچے میں براءت کر آؤں۔جب حضرت ابو بکر مجلس میں پہنچے تو دیکھا کہ گوشبہ یہ کیا گیا تھا کہ عمر حضرت ابو بکر کی شکایت کرنے گئے ہیں مگر وہ اس کی بجائے اپنے قصور کا اقرار کر رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ یارسول اللہ ! غلطی میری تھی۔مجھ سے ابو بکر کے حق میں سختی ہو گئی ہے۔میں معافی چاہتا ہوں۔یہ بات سنتے ہی رسول کریم صلی المینیوم کا چہرہ متغیر ہو گیا اور آپ نے فرمایا: اے لوگو! تم مجھے اور ابو بکر کو کیوں نہیں چھوڑتے۔جب تم لوگ انکار کرتے تھے یہ شخص آگے آیا اور کہا میں ایمان لایا۔میں نے اس میں کبھی کبھی اور سة ها سة انکار کا مادہ نہیں دیکھا۔3 لوگ اختلاف رائے رکھتے ہیں کہ پہلے ایمان لانے والا کون تھا۔حضرت خدیجہ بے شک پہلے ایمان لائیں آخر وہ رسول کریم ملی ایم کی بیوی تھیں۔خاوند کا بیوی پر اثر بھی ہوتا ہے۔حضرت علی بے شک ایمان لائے مگر وہ بچہ تھے ، آپ کے بھتیجے تھے ، آپ کے گھر میں