خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 81 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 81

$1943 81 خطبات محمود یہ ثمر تھا، پھل تھا حضرت رسول کریم صلی لی کام کی سچائی کا۔اسی طرح دیانت ہے، امانت ہے۔ان میں اگر انسان ثابت قدمی دکھاتا ہے تو اس لئے کہ وہ سمجھتا ہے کہ مجھے فائدہ پہنچے گا، تعلقات درست ہو جائیں گے۔پھر کچھ نیکیاں انسان ضرر سے بچنے کے لئے کرتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ اگر جھوٹ بولوں گا تو لوگ میری مانیں گے نہیں۔مگر میں دیکھتا ہوں کہ پھر بھی بعض لوگ جھوٹ بولتے ہیں۔جھوٹ کی وجہ سے رحم کا جذ بہ کمزور ہو جاتا ہے۔مثلاً دیکھو جب کوئی سنتا ہے کہ فلاں کو فاقہ ہے تو دل چاہتا ہے کہ قربانی کرے۔مگر پھر شبہ پڑتا ہے نہ معلوم سچ کہتا ہے یا جھوٹا ہے۔جھوٹ ایک بولتا ہے تکلیف دوسرا اٹھاتا ہے۔اگر لوگ جھوٹ نہ بولتے تو مصیبت کیوں ہوتی۔لوگ بھوکے نہ مرتے۔جھوٹوں نے ڈرا دیا ہے۔اس لئے جب کوئی اپنی مصیبت بیان کرتا ہے تو سننے والا خیال کرتا ہے شاید یہ بھی جھوٹ بولنے والوں میں سے نہ ہو۔اسے ہمدردی بھی ہوتی ہے، چیز بھی پاس موجود ہوتی ہے مگر شک پڑ جاتا ہے اور قربانی نہیں کرتا۔پھر بعض لوگ اس لئے بُرائی سے بچتے ہیں کہ نقصان ہو گا اور اللہ ناراض ہو گا۔تو دنیا میں یہ نظارے جو نظر آتے ہیں بتاتے ہیں کہ لوگ بدیوں سے بچنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ابو بکر کو سچائی کا پورا علم تھا، وہ ایمان لے آیا اور ہر موقع پر قربانی کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔کیف تَكْفُرُونَ وَ اَنْتُمْ تُتْلَى عَلَيْكُمْ أَيْتُ اللهِ وَفِيكُمْ رَسُولُه تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم نا فرمانی میں مبتلا ہو۔حالانکہ اللہ کے نشانات دیکھتے ہو۔پھر بھی نافرمانی کرتے ہو۔تمہیں ہو کیا گیا ہے۔جس کو پتہ لگ جاتا ہے کہ یہ سچائی ہے وہ تو کو تاہی نہیں کرتا نیکی کو اختیار کر لیتا ہے اور برائی سے بچتا ہے۔مگر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ باوجو د نشانات دیکھنے کے اور پتہ لگ جانے کے کہ فلاں بات سے یہ یہ نقصان ہوتا ہے پھر بھی انہیں نہیں چھوڑتے۔دوسری ستی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ کوئی نگران نہ ہو۔مگر تم میں تو اللہ کا رسول موجود ہے جو اللہ کے نشان دکھاتا ہے اور اچھی اور بُری باتوں کی تمیز سکھاتا ہے۔پھر تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ نافرمانی کرتے ہو۔جب کوئی نگران نہ ہو تو لوگ سستی کر جاتے ہیں۔مثلاً لوگ شہر میں چلتے پھرتے ہیں۔نالیوں میں کوچوں میں گند بھی ہوتا ہے مگر اس کی طرف کوئی توجہ