خطبات محمود (جلد 24) — Page 238
* 1943 238 خطبات محمود ایک بہت بڑی رقم دینے کے بعد اس سے یہ درخواست کر دیتے ہیں کہ حضور ہماری خان صاحب“ یا ” خان بہادر کے خطاب کے لئے یا فلاں ٹھیکہ کے لئے سفارش کر دی جائے۔ہم نے گورنمنٹ کی اس قدر خدمت سر انجام دی ہے۔حالانکہ وہ روپیہ جس کی بناء پر گورنمنٹ کی خدمت کا انہیں دعویٰ ہوتا ہے ان کا ہوتا ہی نہیں غرباء کا روپیہ ہوتا ہے اور یا پھر اس روپیہ کو وہ پبلک میں اپنی عزت بڑھانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔مثلاً کہیں کوئی انجمن اسلامیہ ہوئی اور اس کے پریذیڈنٹ یا سکرٹری یا مربی بنے کا سوال زیر غور ہوا تو زکوۃ کے ا روپیہ میں سے دو ہزار روپیہ اس انجمن اسلامیہ کو دے دیا۔اور پھر مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے کہنا شروع کر دیا کہ ہمیں اسلام کی خدمت کا کس قدر احساس ہے۔ہم نے اپنے دن رات کی محنت سے کمایا ہؤا روپیہ انجمن کے سپرد کر دیا۔حالانکہ مقصد یہ ہوتا ہے کہ پبلک میں ان کی عزت بڑھے اور لوگ یہ کہنا شروع کر دیں کہ فلاں میر صاحب یا فلاں مرزا صاحب یا فلاں چودھری صاحب نے دو ہزار روپیہ انجمن اسلامیہ کو دے دیا۔حالانکہ وہ روپیہ اس میر یا مر زا یا چودھری کا تھا ہی نہیں۔وہ تو بہر حال اس نے دینا ہی تھا۔اور دینا بھی غرباء کو تھا۔مگر بجائے اس کے کہ اسے اس مقام پر خرچ کیا جاتا جس مقام پر خرچ کرنے کا اسلام نے حکم دیا ہے وہ اس روپیہ کو دنیوی و جاہت اور اعزاز حاصل کرنے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور یا پھر دیتے ہی نہیں۔اور یا اس قسم کی ٹھگیاں کرتے ہیں جو نہایت ہی قابل شرم ہوتی ہیں۔حضرت خلیفتہ المسیح اول فرمایا کرتے تھے کہ ایک سیٹھ صاحب تھے۔میں ان کے متعلق یہ سمجھا کرتا تھا کہ وہ زکوۃ دیا کرتے ہیں مگر مجھے لوگوں نے بتایا کہ وہ زکوۃ کہاں دیتا ہے وہ تو دھوکا بازی کرتا ہے۔چنانچہ انہوں نے بتایا کہ جب زکوۃ دینے کا وقت آتا ہے تو وہ زکوۃ کا تمام روپیہ ایک گھڑے میں بھر دیتا ہے۔مثلاً دو ہزار یا تین ہزار یا چار ہزار زکوۃ کا روپیہ ہوا تو ہ سب روپیہ ایک گھڑے میں بھر دیا۔اور اس کے اوپر دانے ڈال دیئے۔اس کے بعد وہ کسی غریب طالبعلم کو بلاتا، اسے نہایت اچھا کھانا کھلاتا اور جب وہ کھانا کھا کر فارغ ہو جاتا تو اسے کہتا اس گھڑے میں جو کچھ ہے یہ میں نے آپ کی ملکیت میں دے دیا ہے۔پھر تھوڑی دیر کے بعد کہتا آپ یہ گھڑا اٹھا کر کہاں لے جائیں گے۔اسے واپس میرے پاس ہی فروخت کر دیجئے۔