خطبات محمود (جلد 24) — Page 237
$1943 237 خطبات محمود روحانیت کی درستی کے لئے روزوں کی ضرورت ہے مگر لوگ یا تو روزہ رکھنے میں سست ہو جاتے ہیں یا دکھاوے کے لئے روزے رکھتے ہیں یا روزے تو رکھتے ہیں مگر ان کے روزے صرف بھوک اور پیاس کی تکلیف ہی کہلا سکتے ہیں۔اس سے زیادہ روزوں کا انہیں کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔کیونکہ روزہ رکھنے کے باوجود وہ جھوٹ بول لیتے ہیں۔وہ لڑائی جھگڑوں میں حصہ لیتے ہیں۔وہ ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہیں۔وہ فساد کرتے ہیں۔وہ غیبت میں حصہ لیتے ہیں اور اس لئے نہیں کہا جا سکتا کہ ان کا روزہ، روزہ ہے۔وہ باوجو د روزہ رکھنے کے خدا تعالیٰ کے حضور روزہ دار نہیں ہوتے۔اور یا پھر لوگ روزہ رکھتے ہی نہیں۔زکوۃ انسان کے نفس کی پاکیزگی اور اس کے قلب کے تزکیہ کے لئے ایک نہایت ہی ضروری چیز ہے مگر ایک زمانہ ایسا آ جاتا ہے جبکہ لوگ یا تو زکوۃ دیتے ہی نہیں اور اگر دیتے ہیں تو اسے اپنے دنیوی مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بنالیتے ہیں۔اور یہ دونوں صورتیں ایسی ہیں جو ان کو نیکی سے محروم رکھتی ہیں۔یعنی یا تو وہ ایسا کرتے ہیں کہ اپنے مال کو زکوۃ دینے کے بغیر حرام مال بنالیتے ہیں اور یا اگر دیتے ہیں تو اس زکوۃ کو ایسی طرز پر تقسیم کرتے ہیں جس میں ان کی نفسانی خواہشات کا دخل ہو تا ہے۔مثلاً کسی سکول کے لئے چندہ کی تحریک ہوئی تو ہزار دو ہزار روپیہ دے دیا۔اس پر لوگ بڑے جوش سے اعلان کرتے ہیں کہ فلاں سکول کے لئے فلاں تاجر صاحب نے دو ہزار روپیہ چندہ دیا۔حالانکہ وہ زکوۃ کا روپیہ ہوتا ہے۔اور ان کا کوئی حق ہی نہیں ہوتا کہ وہ اسے اپنی ذاتی خواہشات کو پورا کرنے کا ذریعہ بنائیں۔وہ غرباء کا مال ہوتا ہے اور غرباء کی طرف ہی لوٹائے جانے کا اسلام حکم دیتا ہے تاکہ مال کو پاکیزگی حاصل ہو اور ان کا نفس تزکیہ حاصل کرے۔مگر بجائے اس کے کہ وہ زکوۃ کو اپنے مال یا اپنے قلب کی پاکیزگی کا ذریعہ بنائیں وہ اسے اپنی عزت بڑھانے کا ایک ذریعہ بنا لیتے ہیں۔یاز کوۃ کا مال تو الگ کر لیتے ہیں مگر ان کے دل میں یہ ارادہ مخفی ہوتا ہے کہ کبھی ڈپٹی کمشنر سے ملے اور اس نے چندہ کی تحریک کی۔تو اس موقع پر اس روپیہ میں سے ایک خاص رقم دے دیں گے اور اس طرح عزت اور شہرت میں اضافہ ہو گا۔حالانکہ زکوۃ غرباء کے لئے ہوتی ہے۔اس لئے نہیں ہوتی کہ اس روپیہ کو انسان اپنی ذاتی اغراض کے لئے استعمال کرے مگر انہیں اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ڈپٹی کمشنر تحریک کرتا ہے اور وہ چندہ میں