خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 228 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 228

$1943 228 خطبات محمود نہ جانتا تھا۔یہ آیت اس کا رد بتاتی ہے۔فرمایا وَ مَا اَرْسَلْنَا مِنْ رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ۔ہم کسی رسول کو نہیں بھیجتے مگر اس کی قوم کی زبان میں تاکہ وہ اس کے سامنے اپنے دعویٰ کی وضاحت کر سکے اور لوگوں کو خدا کا کلام اور تعلیم سمجھا سکے۔اس آیت کے معنی مفسرین یہ کرتے ہیں کہ نبی کی زبان ہی وہ زبان نہیں ہوتی جو اس کی قوم کی زبان ہوتی ہے بلکہ اس پر نازل ہونے والے کلام کی بھی وہی زبان ہوتی ہے جو اس کی قوم کی ہو۔اس لحاظ سے اس آیت کا یہ مفہوم نکلے گا کہ جو زبان اس قوم کی ہوتی ہے جس کی طرف کوئی نبی مبعوث ہوتا ہے اسی میں وہ نبی کلام کرتا ہے تاکہ لوگ اندازہ لگا سکیں اس کے سچے اور جھوٹے ہونے کا۔اور اسی زبان میں اس پر خدا کا کلام نازل ہوتا ہے تاکہ لوگ سمجھ سکیں، اس پر عمل کر سکیں۔مگر وید کی زبان تو ایسی زبان تھی جسے لوگ جانتے ہی نہ تھے۔ایسی صورت میں اس کی خوبصورتی، اس کے باریک اشارات، اس کے وسیع مفہوم اور اس کے بلیغ مطالب کو وہ کس طرح سمجھ سکتے تھے۔وید کے متعلق ایک شخص کا جس پر کہا جاتا ہے کہ وید نازل ہوئے بیان تھا کہ یہ خدا کا کلام ہے۔ایسی صورت میں اسے یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ وید الہام ہے۔وہ خود ہی لوگوں سے کہہ سکتا تھا کہ یوں کرو اور یوں نہ کرو۔الہام کے معنے تو یہ ہیں کہ دوسرے بھی اسے سمجھ سکیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔لیکن اگر وہ ایسی زبان میں نازل ہو کہ نہ اس کے الفاظ کوئی جانتا ہو ، نہ اس کے محاورات سے کوئی واقف ہو ، نہ اس کے استعارات کا کسی کو پتہ ہو ، نہ اس کے محکمات کی واقفیت ہو، نہ اس کی فصاحت کو کوئی جانتا ہو تو ایسی زبان کے الہام سے کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔اس آیت کے یہ معنی بھی ٹھیک ہیں کہ نبی اسی زبان میں کلام کرتا اور اسی زبان میں اس پر الہام نازل ہوتا ہے جو اس کی قوم کی زبان ہوتی ہے۔مگر لسان کے معنی عربی میں صرف یہ نہیں کہ جو زبان بولی جاتی ہے بلکہ اور بھی ہیں۔مثلاً کہتے ہیں فلاں کی زبان بڑی اچھی ہے، فلاں کی زبان بہت فصیح ہے۔اس کے یہ معنی ہوئے کہ زبان زبان میں بھی فرق ہوتا ہے۔اور استعمال اور محاورات کے فرق کے لحاظ سے ایک ہی زبان مختلف زبانیں کہلا سکتی ہے۔پس دوسرا مفہوم اس آیت کا یہ ہے کہ جو نبی آتا ہے وہ ایسی زبان میں کلام کرتا ہے