خطبات محمود (جلد 24) — Page 229
$1943 229 خطبات محمود جو اس زمانہ کے محاورات کے مطابق ہوتی اور اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہے۔کیونکہ ایسی زبان کا قلوب پر بہت اثر ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس بات سے بہت فائدہ حاصل کیا ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق پیشگوئی تھی کہ وہ تمثیلوں میں کلام کرے گا۔ان تمثیلوں کے معنی زبان کے محاورہ کے مطابق کرنے سے کئی باتیں حل ہو گئیں۔مثلاً حضرت مسیح علیہ السلام نے اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا ہے۔2 یہ اس وقت اس زبان کا محاورہ تھا جس میں حضرت مسیح علیہ السلام باتیں کرتے تھے کہ مقرب خدا کو خدا کا بیٹا کہتے تھے۔اس محاورہ کی رو سے معلوم ہو گیا کہ حضرت مسیح نے جو اپنے آپ کو خدا کا بیٹا کہا تو اس کا کیا مطلب تھا۔پس الا بِلِسَانِ قومہ کا یہ مطلب ہے کہ نبی اپنے ملک کی زبان بولتا ہے اور اس کے محاورات میں کلام کرتا ہے۔مثلاً حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں شراب“ یا ”محبوب “ کا جو ذکر آجاتا ہے ان الفاظ کے معنی لِسان قومیہ کے مطابق کئے جائیں گے نہ کہ شراب سے مراد وہ شراب لی جائے گی جسے پی کر لوگ مد ہوش ہو جاتے ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی معرفت کی شراب مراد ہے۔اور نہ محبوب سے مراد کوئی انسان لیا جائے گا بلکہ خدا تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔کوئی پاگل ہی ان الفاظ کے یہ معنی لے سکتا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں شراب سے عام شراب مراد ہے اور محبوب سے کوئی انسان مراد ہے۔غرض نبی اپنے کلام میں اس زمانہ کے محاورے اور استعارات استعمال کرتا ہے اور ایسی زبان میں کلام کرتا ہے جو اعلیٰ معیار پر پوری اترتی ہے۔ہاں اگر کبھی وہ عام محاورہ کو ترک کرے تو اس کے معنے بھی وہ خود ہی بتا دیتا ہے تاکہ دھوکا نہ لگے۔مثلاً اس زمانہ میں نبی کے ایک ایسے معنی لئے جاتے تھے جن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے رڈ کیا۔لوگ سمجھتے تھے کہ نبی وہ ہوتا ہے جو نئی شریعت لائے مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ نبی کے لئے ضروری نہیں کہ نئی شریعت لائے۔اب آپ کے کلام میں اگر نبوت کا دعویٰ پایا جائے تو نبی کے وہ معنی درست نہیں ہو سکتے جو پہلے لوگ کرتے تھے بلکہ وہی معنی درست ہوں گے جو