خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 227 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 227

خطبات محمود 227 $1943 صرف راستباز ہونے سے خدا تعالیٰ کی طرف سے نہیں ہو سکتا۔اور اس کا پیغام اور کلام جسے وہ خدا تعالیٰ کی طرف منسوب کرے یہ یقین نہیں دلایا جا سکتا کہ وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ہو سکتا ہے کہ ایک شخص بیوقوف ہو مگر راستباز ہو۔یا راستباز ہو مگر پاگل ہو۔پس یہ ضروری ہے کہ مدعی جو کلام پیش کرے اور پھر اس کے جو معنی کرے وہ لوگ سمجھ سکیں۔ورنہ کیا پتہ ہے کہ جو معنی مدعی نے اپنے الہام کے کئے ہیں اگر اصل الفاظ ایسی زبان میں ہوں جو سمجھ میں نہ آئے تو وہ درست ہیں۔پس چاہے وہ الفاظ پیش کرنے والا راستباز ہی ہو ، ہو سکتا ہے کہ وہ بھولے پن اور بے علمی سے ایسے معنی کرے جو غلط ہوں۔احمدی کہلانے والے جو دعوی نبوت کرتے ہیں بالعموم وہ راستباز ہوتے ہیں۔بعض جھوٹے بھی ہیں۔مگر بالعموم وہ راستباز ہوتے ہیں۔ہم نے ان کی زندگیوں کو دیکھا ہے کہ وہ سچ بولتے تھے۔ان کا چال چلن ایسا نہیں تھا کہ جو قابل اعتراض سمجھا جاتا۔اور یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ فریبی اور جھوٹے تھے۔اب اگر الہام کے الفاظ کسی ایسی زبان میں خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے جائز ہوتے جسے کوئی نہ سمجھ سکتا تو ایسے لوگ کچھ چٹ چٹ کر کے کہہ دیتے کہ یہ خدا کا کلام ہے جو ان پر نازل ہوا ہے۔اور اس کا یہ مفہوم ہے۔ایسی صورت میں کوئی ایسا معیار نہ ہوتا جس سے معلوم ہو سکتا کہ فی الواقع وہ الفاظ خدا تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوتے ہیں یا نہیں۔مگر خدا کی کلام کے الفاظ اسی زبان میں نازل ہوتے ہیں جسے نبی کی قوم سمجھے اور اندازہ لگا سکے کہ مدعی پر خدا تعالیٰ کی طرف سے کلام نازل ہوا ہے اور نہ ہو سکتا ہے کہ کوئی مدعی ویسے الفاظ گھڑ لے جو کسی کی سمجھ میں نہ آئیں اور وہ کہہ دے ان کا یہ مطلب ہے۔حضرت خلیفہ اول کے زمانہ میں ایک شخص محمد بخش تھا۔ایک دفعہ اس نے سنایا کہ مجھے الہام ہوا ” آئی وٹ وٹ۔وہ تھا تو راستباز مگر اس کے دماغ میں جو خرابی تھی اس نے اسے ایسے بے معنی الفاظ سکھا دیے کہ ان الفاظ سے اندازہ لگا لیا گیا کہ اس کا دماغ خراب ہے۔پھر قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ نبی اسی زبان میں گفتگو کرتا ہے اور اسی میں اس پر الہام نازل ہو تا ہے جو اس کی قوم کی زبان ہوتی ہے۔مذاہب کی صداقت کے متعلق فیصلہ کرنے کے لئے بھی ضروری بات ہے۔مثلاً آریہ کہتے ہیں کہ وید ایسی زبان میں نازل ہوئے جسے کوئی