خطبات محمود (جلد 24)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 323

خطبات محمود (جلد 24) — Page 203

* 1943 203 خطبات محمود بعض یہ ہیں۔اول جھوٹ بولنے اور دھو کہ دینے کے لئے قسم کھانا، قبر پر پڑھنا وغیرہ۔چنانچہ اسی طرح اس نے پچاس گھناؤنے اور قابل نفرت کاموں کا ذکر کیا ہے۔پس کیا وجہ تھی کہ اب قرآن کی تعلیم نے وہ اثر نہ کیا ؟ اس کی یہی وجہ تھی کہ اب اس کی شاعت کا موسم نہ رہا تھا۔اس کی وہ Back Ground نہ رہی تھی۔اس کی اشاعت کا موقع جاتا رہا تھا۔جس طرح گیہوں کو اگر نومبر اور دسمبر میں بوئیں تو اچھا غلہ دے دیتا ہے لیکن جون میں غلہ نہیں پیدا کرتا۔اسی طرح قرآن کریم نے اپنے موسم میں خوب پھل دیا۔لیکن موسم گزر جانے کے بعد یہی بیج جب دوبارہ لوگوں کے دل میں بویا گیا تو اس نے کوئی پھل نہ دیا اور اندر باہر سے اسے دھکے ملے اور وہ کوئی نتیجہ خیز تبدیلی پیدا نہ کر سکا۔اس کے بعد پھر ہمارا زمانہ آیا۔جس میں ایک شخص پیدا ہوا۔اس نے کہا کہ قرآن کے بیج کو بویا گیا۔اس نے پھل دیا۔پھر وہ موسم گزر گیا لیکن اب پھر اسی بیج کو دوبارہ بونے کا موقع آگیا ہے۔تم نے چاہا تھا کہ موسم گزرنے کے بعد پھر فصل اگاؤ۔لیکن موسم کے گزرنے کی وجہ سے تم ایسانہ کر سکے لیکن وہ موسم زمانہ چکر کھا کے پھر اسی وقت پر آگیا ہے اور اب دوبارہ اس کے بونے کا موسم ہے۔پہلے زمانوں میں ایک فصل اُگائی جاتی، اس کے بعد دوسری فصل اُگائی جاتی۔پہلے چاول بوئے گئے ، پھر چنے بوئے گئے لیکن محمد رسول اللہ صلی الیم نے دنیا کو آکر وہ بیچ دیا جو تمام گزشتہ بیجوں سے اعلیٰ تھا اور اب کسی نئے بیچ کی ضرورت نہ رہی۔ہاں یہ فیصلہ ہوا کہ یہی بیج بار بار بویا جائے گا۔اب کوئی مزید تجربہ نہیں ہو گا۔اب اچھی فصل معلوم ہو گئی ہے۔جیسے تجربے کے بعد جب ہمیں معلوم ہو جائے کہ فلاں بیچ سب سے اچھا ہے اس کے بعد پھر کسی اور بیج کو بونا حماقت ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی ا ہم نے سب سے اعلیٰ اور آخری پیج دنیا کو دیا تو پہلے بیجوں کی حاجت نہ رہی اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ پہلے ادنی پیج اپنے اپنے زمانوں کی ضرورتوں کے موافق کافی تھے لیکن سب ضرورتوں کے لئے کافی نہ تھے۔جیسا آنحضرت صلی اللہ نیلم نے آخری بیچ دے دیا تو آئندہ فیصلہ ہوا کہ جب کبھی بیج بونے کا موسم آئے پھر وہی بیج بویا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے پھر اسی پیج کے بونے کے موسم کو پیدا کر دیا۔ہمیں خوشی ہے کہ پھر موسم آگیا لیکن اس بات کی ہمیں خبر