خطبات محمود (جلد 24) — Page 204
* 1943 204 خطبات محمود نہیں دی گئی کہ یہ موسم کب تک رہے گا۔پس ہمیں فکر کرنی چاہیئے کہ ہم اس موسم سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھا لیں۔ایسانہ ہو کہ جس طرح پہلے موسم گزرنے کے بعد اثر زائل ہو گیا تھا۔اب بھی ویسا ہی ہو جائے۔احمدیت کی تبلیغ کے لئے ابھی وقت ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت کی حد ہمیں نہیں بتائی۔اگر وہ بتا دیتا مثلاً یہ بتا دیتا کہ 300 سال ہے تو ہم کہتے ابھی بہت سا وقت باقی ہے۔اگر ہم نے تبلیغ نہیں کی تو کیا ہوا ہماری اولادیں اس کام کو کر لیں گی۔اس کے بعد اگر ہماری اولادیں بھی اس کام کو پیچھے ڈال دیں تو آخری لوگ ہی پھر دوڑ دھوپ کرنے کے لئے رہ جاتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ نہیں بتایا کہ آخری حد 10 سال ہے یا 100 سال ہے۔صرف اتنا بتایا ہے کہ بونے کا موسم آگیا ہے۔اور اسی طرح یکدم اس موسم کے ختم ہونے کا وقت بھی آجائے گا اور اگر تم وقت کے اندر بوؤ گے تو کھیتی اُگے گی ورنہ نہیں۔اور اگر تم وقت کے اندر فصل نہ اُگاؤ گے تو تمہارا حال قحط زدہ علاقوں کے انسانوں کی طرح ہو گا جو بھوکے مر جاتے ہیں۔مثلاً جیسے آجکل بنگال کا حال ہے کہ روزانہ سو سو آدمی گلیوں میں بھوکے مرے ہوئے ملتے ہیں۔یوں معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں انسان کا مقصد حیات نہیں بلکہ موت ہے۔پس ہمیں فکر کرنی چاہیئے۔ایسا نہ ہو کہ احمدیت کے ذریعہ اسلام کی اشاعت کا موسم ختم ہو جائے۔پس ہمیں اس پیج کو بونے میں لگ جانا چاہیئے تا کہ ہم وقت پر فصل کاٹ سکیں۔اور ایسانہ ہو کہ فصل کاٹنے سے پہلے ہی اس پر تباہی اور خزاں آ جائے۔ہماری زندگی کا ہر لمحہ جو گزر جاتا ہے وہ ہمیں دہشت دلاتا ہے کہ شاید بونے کا یہی آخری گھنٹہ تھا اور یہی وقت موسم کا آخری وقت تھا۔اور شاید کل کو ہماری کاشت گیارھویں بارھویں صدی کی طرح بے سود رہے گی۔خدا تعالیٰ نے ہمارے کام میں وسعت اور گرمی پیدا کرنے کے لئے وقت کے علم کو اپنے پاس محفوظ رکھا ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے پاس وہ کتاب ہے جس میں وہ وقت محفوظ رکھا جاتا ہے۔جس سے مراد یہ ہے کہ روحانی اشاعت کا زمانہ اسی کے علم میں ہے۔اس کے متعلق ہمیں نہیں بتایا گیا کہ اس کی فصل کا کتنا وقت باقی ہے تاکہ نہ حد سے زیادہ امید ہو اور نہ حد سے زیادہ مایوسی ہو۔جس دن یہ موسم ختم ہو جائے گا قوم اٹھے گی، گلے پھاڑے گی، پمفلٹ تقسیم کرے گی مگر