خطبات محمود (جلد 24) — Page 202
$1943 202 خطبات محمود محفوظ ہے۔اور لوگوں نے نقل کر دی ہے۔کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ کیا فضول بات ہے کہ اتنی چھوٹی چھوٹی باتیں نقل کر دی ہی کہ آپ لقمہ اس طرح پکڑتے تھے ، پگڑی اس طرح باندھتے تھے۔اور حقیقت یہ ہے کہ یہ تفصیلات اسلامی شریعت کے لئے ایک Back Ground کا کام دیتی ہیں۔اور دنیا میں ہر چیز جو اپنے ماحول میں اثر کرتی ہے۔وہ اثر ویسے بغیر ماحول کے پیدا نہیں ہو سکتا۔کوئی تصویر بھی اپنی Back Ground کے بغیر خوبصورت معلوم نہیں ہوتی۔اور اس کی مثال اسی طرح ہے جیسے تھیٹر (Theatre) میں سینری (Scenery) ہوتی ہے۔اسی طرح شریعت اسلامیہ کے ساتھ ساتھ آنحضرت صلی للی نم کی زندگی کی تفصیلات ہیں۔آپ کا اٹھنا بیٹھنا، آپ کا لباس، بات کرنے کی طر ز ، لوگوں کی طرف متوجہ ہونا، سوال کا جواب دینا وغیرہ سب باتیں بیان ہوئی ہیں اور ان سب تفصیلات کو ملا کر جو شکل اور جو تصویر آنحضرت صلی یہ کم کی ہمارے ذہنوں میں آتی ہے وہ جو اثر رکھتی ہے وہ ان تفصیلات کے بغیر نہیں رکھتی۔اس سے صحابہ نے آپ کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بھی ذکر کیا ہے۔مثلاً آپ کی پگڑی کیسی تھی؟ قد کتنا لمبا تھا؟ آپ کے رات دن کا پروگرام کیا تھا؟ مجالس میں آپ کس طرح بات کرتے تھے ؟ آپ کو کیا کیا مشکلات پیش آئیں ؟ اگر فرض بھی کرلیں کہ شریعت اسلامیہ سے ان باتوں کو دور کا تعلق بھی نہیں ہے لیکن جس چیز کا تعلق ہے وہ بھی ان کے بغیر اتنا اثر پیدا نہیں کر سکتی جتنا ان کے ساتھ کرتی ہے۔یہ تمام باتیں بطور ایک Back Ground کے ہیں جس کے ذریعہ سے ہم حقیقت کو بخوبی سمجھ سکتے ہیں۔ور نہ مذہب ایک فلسفیانہ خیال اور ایک شاعر کی بات رہ جاتا ہے۔مسلمانوں نے وہ زمانہ بھی دیکھا جبکہ لوگ قرآن کریم کی ایک ایک آیت پڑھتے ہوئے ساری ساری رات گزار دیتے تھے۔اور وہ زمانہ بھی دیکھا کہ اسی کے ماننے والوں نے اسے حقارت سے پھینک دیا۔اور یہ قرآن ہر ملک کے سامنے پیش ہوا اور ہر ایک نے اسے ٹھکرا دیا۔ایک مصری عالم نے اپنے ایک مضمون میں قرآن کریم کے بہت سے کام گنوائے ہیں۔وہ لکھتا ہے کہ قرآن پچاس کام آتا ہے لیکن اگر مسلمان اس سے کوئی کام نہیں لیتے۔تو صرف وہ جو اس کا اصل کام ہے یعنی اس کو پڑھ کر اس پر عمل کرنا۔جو کام اس سے لئے جاتے ہیں اور اس نے گنوائے ہیں ان میں سے